زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
متاثرین کو خون دینے میں پیش قدمی

متاثرین کو خون دینے میں پیش قدمی

میں ان عظیم لوگوں کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ضرورت کے لمحے میں متاثرین کو خون دینے کے لیے پیش قدمی کی۔ سید علی خامنہ ای 27 اپریل 2025
    درس اخلاق: خدا سے قربت کی لگاتار کوشش، پیغمبر اکرم کی روش

    درس اخلاق: خدا سے قربت کی لگاتار کوشش، پیغمبر اکرم کی روش

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم موت کے آخری لمحوں تک اپنے اس مقام اور عظمت کے ساتھ، عصمت کے اس بلند ترین مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود، خدا سے دائمی طور پر مزید قریب ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کے ذکر میں زیادہ مشغول رہنے کے لیے جو کوشش وہ کیا کرتے تھے اس میں آخری دم تک رکاوٹ نہیں آئی کیونکہ پیغمبر بھی روز بہ روز کمال و ارتقاء کی طرف گامزن تھے۔ امام خامنہ ای  28 اگست 2006
    قرآن کی روشنی میں:مغربی تہذیب کا زوال، اللہ کا یقینی وعدہ

    قرآن کی روشنی میں:مغربی تہذیب کا زوال، اللہ کا یقینی وعدہ

آج مغربی تہذیب زوال سے دوچار ہے یعنی واقعی طور پر تنزل کی طرف گامزن ہے: جہنم کی آگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ (سورۂ توبہ، آیت 10) دلدل کے دہانے پر ہے۔ البتہ معاشروں کے تغیرات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں اور جلدی محسوس نہیں ہوتے، حتیٰ خود مغربی دانشورں نے اسے محسوس کر لیا ہے اور زبان سے بھی کہنے لگے ہیں۔ یہ سب ہماری امید کے اسباب میں سے ایک ہے، مغربی تہذیب، مادی تہذیب، ہمارے مقابلے میں ہے اور زوال و انحطاط سے روبرو ہے۔ یہ بھی امید افزا تغیرات میں سے ہے اور یہ بھی اللہ کے اٹل وعدوں میں سے ایک ہے۔ امام خامنہ ای  22 مئی 2019
    اسلامی گھرانہ: مشترکہ زندگی میں باہمی تعاون

    اسلامی گھرانہ: مشترکہ زندگی میں باہمی تعاون

میاں بیوی کے باہمی تعاون سے مراد روحانی تعاون ہے کہ عورت، مرد کی ضرورتوں کو محسوس کرے، اس پر اخلاقی دباؤ نہ ڈالے۔ کوئی ایسا کام نہ کرے کہ اسے زندگی کے مسئلے میں دوری اور تنہائی کا احساس ہو اور وہ خدا نخواستہ غلط راہ اپنانے پر مجبور ہو۔ چنانچہ اگر شوہر کے کام کاج سے کسی حد تک گھر کے حالات متاثر ہو رہے ہوں جیسے وہ گھر کی ضروریات کو پورا نہ کر سکے تو زوجہ اس کے سامنے یہ بات نہ کہے۔ یہ باتیں بہت اہم ہیں، دوسری طرف مرد کا بھی فرض ہے کہ وہ عورت کی ضرورتوں کو محسوس کرے، اس کے احساسات کو سمجھے اور اس کے حالات کی طرف سے غفلت نہ کرے۔ امام خامنہ ای   29 اپریل 1996  
مہدویت: سورج کی طرح روشن وجود

مہدویت: سورج کی طرح روشن وجود

ہماری تیرہ و تار معمولی آنکھیں اس ملکوتی چہرے کو قریب سے نہیں دیکھ رہی ہیں لیکن وہ سورج کی طرح روشن ہے، دلوں کے ساتھ رابطہ رکھتا اور انسان کی روحوں سے منسلک ہے۔ معرفت رکھنے والے انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہوسکتی کہ وہ محسوس کرے خدا کا ولی، امام برحق، عبد صالح، دنیا کے تمام بندوں کے درمیان منتخب روزگار بندہ، جو روئے زمین پر خلیفۂ الہی کا مصداق اور مخاطب قرار پایا ہے اسے دیکھ رہا ہے اور اس سے تعلق رکھتا ہے۔ امام خامنہ ای 24/11/1999
امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر رہبر انقلاب اسلامی کا بصیرت افروز بیان

امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر رہبر انقلاب اسلامی کا بصیرت افروز بیان

امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر مجلس عزاء کا انعقاد ہوا، جس کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے خطاب کیا۔  
درس اخلاق: اسلامی معاشرے میں حسن ظن

درس اخلاق: اسلامی معاشرے میں حسن ظن

اسلامی معاشرے اور اسلامی ماحول میں کسی بھی بدگمانی کے بغیر لوگوں کے ساتھ حسن ظن سے پیش آنا چاہیے۔ روایات میں ملتا ہے کہ جس وقت حکمراں طبقہ شر و فساد پر اترا ہو تو ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا کرو لیکن جس وقت معاشرے میں خیر و صلاح کی حکمرانی ہو تو بدگمانیاں کنارے رکھ دو اور ایک دوسرے کے سلسلے میں حسن ظن رکھو۔ ایک دوسرے کی باتوں کو بھی قبولیت کی نظروں سے دیکھا اور سنا کرو، ایک دوسرے کی برائیوں کو نہ دیکھا کرو بلکہ اچھائیوں پر نظر رکھا کرو۔  امام خامنہ ای 24 اکتوبر 2021
قرآن کی روشنی میں: تقویٰ کے دنیوی و اخروی اثرات

قرآن کی روشنی میں: تقویٰ کے دنیوی و اخروی اثرات

قرآن مجید کہتا ہے: اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ (سورۂ اعراف، آيت 96) یعنی ایمان اور تقویٰ کی خاصیت صرف یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے دلوں کو آباد کیا جائے بلکہ لوگوں کے ہاتھ اور ان کی جیبیں بھی اس کے ذریعے بھر سکتی ہیں اور انسانوں کے دسترخوان بھی طرح طرح کی نعمتوں سے سج سکتے ہیں اور ان کے بازو قوی ہوسکتے ہیں، ایمان اور تقویٰ میں یہی خاصیت پائی جاتی ہے۔ امام خامنہ ای 2 جنوری 1998
خطے سے صیہونی حکومت کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

خطے سے صیہونی حکومت کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

رہبر انقلاب اسلامی نے 31 مارچ 2025 کو اپنے خطاب میں خطے سے صیہونی حکومت کے خاتمے کی کوشش کو ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ بتایا۔ اس انفوگراف میں اس فریضے کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئي ہے۔
اسلامی گھرانہ: شوہر و زوجہ میں افہام و تفہیم، آپسی محبت میں اضافے کا سبب

اسلامی گھرانہ: شوہر و زوجہ میں افہام و تفہیم، آپسی محبت میں اضافے کا سبب

شادی کا اصل مسئلہ دو وجودوں کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مفاہمت، انسیت اور یگانگت سے عبارت ہے۔ یقیناً یہ ایک قدرتی امر ہے لیکن اسلام نے جو طریقے، رسم و رواج اور اصول و آئین قرار دیے ہیں اور شادی کے لیے جو احکام بیان کیے ہیں، ان کے ذریعے اس میں دوام و برکت پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے، ہر ایک کو دوسرے کے درد و اور خواہشوں کو سمجھنا اور فریق مقابل کی ہمراہی کرنا چاہیے، اسی کو کہتے ہیں سمجھنا۔ مشہور کہاوت کے مطابق: زندگی میں افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہے، یہ چیزیں محبت بڑھا دیتی ہیں۔ امام خامنہ ای 25 اگست 1992