جواب: ایسی بہت سی رپورٹیں مل رہی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ دیگر ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے افسران، انقلاب مخالف تنظیموں اور ملک کے کچھ غداروں، غیر قانونی لیبر یونینوں سے رابطہ کر رہے ہيں بلکہ سیاحتی یا تعلیمی ٹورس یا سماجی و قانونی سرگرمیوں کے کیمپ کی شکل میں، ایرانیوں کو ملک سے باہر ٹریننگ تک دی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ اس قسم کے پروگراموں میں، ایجنٹوں سے کیا کہا اور کیا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انقلاب مخالف گروہوں اور دشمن کی خفیہ ایجنسیوں میں ایک وسیع بحران اور بلوے پیدا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس لئے وہ موقع کا انتظار کرتی ہیں۔ اسی لئے یہ خدشہ تھا کہ اس دوران یعنی 'ماہ مہر' کی شروعات (23 ستمبر نئے تعلیمی سال کی شروعات)  کے آس پاس کوئی نہ کوئي حرکت کی جائے گی۔

 اسی دوران افسوس کے ساتھ ہماری ایک ہم وطن لڑکی کی موت ہو جاتی ہے جس کی فورا تحقیقات بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ رہبر انقلاب نے افسوس کا اظہار کیا، صدر مملکت اور دیگر اعلی حکام نے تحقیقات کے احکامات صادر کئے۔ دشمنوں کو اس لڑکی یا کسی بھی ایرانی شہری کی موت پر یقینا کوئي افسوس نہيں ہوا بلکہ انہوں نے اسے اپنی حرکتوں اور سازشوں کے لئے بہانہ بنا لیا۔

شروع میں معاشرے کے ایک حصے کو اس سانحے کا افسوس تھا اور وہ تحقیقات اور قضیئے کو واضح کئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جذبات میں آکر انہوں نے مظاہرہ بھی کیا جس پر حکام نے پوری توجہ دی اور حقائق واضح کرنے کے لئے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ تحقیقات آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ لیکن اس کے بعد واقعات اور حالات نے جو رخ اختیار کیا اس سے یہ ثابت ہو گيا کہ ملک کے اندر بلوے کرانے کے لئے خفیہ ایجنسیوں  کی سازش کے بارے میں ہماری معلومات اور اندازے بالکل درست تھے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کا دور ہو یا اس کے بعد کا، امریکہ نے ہمیشہ، اسلامی جمہوری نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس خیال اور حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کسی ثبوت یا گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ گزشتہ  43 برس کے تاریخی شواہد اور ان کے ساتھ، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سازشیں کرنے کے امریکی حکام کے اعترافات، ٹھوس ثبوت ہيں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی مخاصمت کی تاریخ اور اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی کے سلسلے میں منظر عام پر آنے والے بے شمار دستاویزات، امریکہ کی دشمنی کی شدت کا ثبوت ہیں۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر اور کچھ دوسرے معلومات نہ ہونے کی وجہ سے 'سازش کے وہم' کی بات کرتے ہيں جبکہ اتنے سارے دستاویزات، ثبوتوں اور امریکی حکام کے اعترافات کے ساتھ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو امریکی تھنک ٹینکوں کے بیانات اور ان کی تحریروں میں بار بار دوہرایا گيا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام، ایک دینی اسلامی جمہوریت کے ماڈل کے طور پر، مسلم اقوام کی بیداری اور انہیں مغرب کے خلاف متحد کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس ماڈل کو ناکام بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں مثال کے طور پر گراہم فولر کی تحریروں کو پیش کیا جا سکتا ہے جنہوں نے سی آئی اے کے ایجنٹ کے طور پر مشرق وسطی میں برسوں گزارے ہيں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ایران کو بخوبی جانتے ہیں۔

 

سوال: رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیا ہے کہ یہ سازش، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تیار کی گئي ہے۔ حالیہ بلوے کے ذمہ دار کس طرح غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں رہتے تھے؟

 

جواب: آپریشن سے جڑے ایجنٹوں اور غیر ملکی خفیہ تنظیموں کے افسروں کے درمیان رابطہ، عام طور پر تہہ در تہہ ہوتا ہے۔ حالانکہ، بلوے سے قبل، دشمنوں کی جلد بازی کی وجہ سے ان کے بہت سے افسروں تک ہم براہ راست پہنچ گئے اور ان میں سے کئي کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ فرانس کی خفیہ ایجنسی 'ڈی جی ایس ای' نے غیر قانونی یونینوں کو بد امنی اور بلوؤں کے لئے ٹریننگ دی۔ ان کی تمام ملاقاتوں، رابطوں اور بات چیت کا دستاويز تیار ہے اور ان جاسوسوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

 دشمن نے حالیہ بلوؤں میں کثیر جہتی جنگ کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ہائی برڈ وار فيئر کا ایک اہم عنصر سائبر اسپیس اور غیر ملکی خاص طور پر امریکی سوشل میڈیا ہيں۔ ان چینلوں نے ہائی برڈ وار فیئر میں اصلی اور مرکزي کردار ادا کیا ہے۔

بلا شبہ اذہان کو نشانہ بنانے والی جنگ کے اہم عنصر کے طور پر ہائی برڈ وار فيئر  کے اصولوں کی بنیاد پر کسی ملک میں بلوے اور بد امنی پیدا کرنے کے لئے ایک بے حد وسیع آپریشن کی مثال وہ سب کچھ ہے جو، بلوؤں سے چند مہینوں قبل، بلوؤں کے دوران اور پھر اس کے بعد ایران میں نظر آیا  اور جس کے پیچھے رہبر انقلاب اسلامی کے لفظوں میں، امریکہ کی مافیا حکومت اور بد طینت برطانیہ، بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور ان کی دودھ دینے والی گائے سعودی عرب جیسے اس کے ایجنٹوں کا ہاتھ رہا ہے۔

بلوؤں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل در آمد میں صیہونی حکومت کا ہاتھ زيادہ واضح طور پر نظر آیا۔ پروپگنڈے میں برطانوی لومڑی کا کردار زيادہ تھا جبکہ بجٹ کے انتظام میں ہمیں آل سعود کا رول زیادہ نظر آیا یہاں تک کہ برلن میں جو ڈراما کیا گیا اور جہاں شاہی نظام کے خواہاں، ایم کے او تنظیم کے منافقین، علیحدگي پسند اور جنسی انحراف کے شکار گروہ کے افراد اکٹھا ہوئے تھے، اس کے لئے بھی تشہیرات، پروپگنڈے، آڈیو ویڈیوریکارڈنگ کے لئے جدید ترین کیمروں کے انتظام، ڈرون طیاروں سے شوٹنگ، زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت، صحافیوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر رپورٹنگ اور سب کے کھانے پینے کے انتظامات کے لئے ضروری رقم کا پورا انتظام آل سعود نے کیا تھا۔ ہمارے پاس اپنے اس دعوے کے لئے دستاویزی ثبوت موجود ہے۔

 

سوال : ملک کے اندر اس نیٹ ورک کے فیلڈ ورکروں کے بارے میں کچھ وضاحت سے بتائيں۔ اس نیٹ ورک کے اراکین اور سرغنہ کون لوگ تھے؟ کس طرح نیٹ ورک بنا اور کس طرح لوگوں کو اس کا رکن بنایا گيا؟ ملک کی سیکوریٹی ایجنسیوں کی اس قسم کے نیٹ ورک اور ان کے ذمہ داروں پر کس حد تک نظر تھی؟

 

خاص طور پر اس قسم کے نیٹ ورک جو ہوتے ہيں ان کا ایک مالک یا آرڈر دینے والا ہوتا ہے، ایک شخص بجٹ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور کچھ لوگ احکامات پر عمل کرنے والے ہوتے ہيں۔ ان تمام نیٹ ورکس کے مالک  امریکہ، برطانیہ اور صیہونی حکومت ہیں جو ایرانی قوم تک براہ راست رسائي اور انہيں متاثر کرنے صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا جیسے وسائل سے ایرانی قوم کے خلاف اس قسم کی جنگ شروع کرتے ہيں۔ اس قسم کے تمام نیٹ ورکس کے لئے ضروری سرمائے کا انتظام افسوس کی بات ہے کہ ساتھ سعودی عرب کرتا ہے۔ تاہم اس دوران، لندن سے چلنے والے فارسی زبان کے چینلوں اور ذرائع ابلاغ کو جو در اصل ذرائع انحراف ہيں، ہرگز نہيں بھولنا چاہیے۔ یہ چینل، در اصل فیلڈ ورک کی کمان سنبھالتے ہيں۔ ہمارے پاس ٹھوس معلومات ہیں کہ دشمنوں کی خفیہ ایجنسیاں، ان چینلوں کو ہر لحظہ خبريں، رپورٹیں اور ویڈیوز بھیجا کرتی تھیں اور یہ چینل، سڑکوں پر بلوائیوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ اس سلسلے میں لندن، سعودی عرب اور امریکہ کے چینلوں یعنی بی بی سی فارسی، سعودی عرب کے ایران انٹرنیشنل اور منو و تو ٹی وی چینل کا کردار دوسروں سے زيادہ واضح تھا۔

 

سوال : سیکورٹی کے میدان سے ہٹ کر، ذرائع ابلاغ اور پروپگنڈے کی سطح پر بھی غیر ملکی فارسی اور غیر فارسی چینلوں کے درمیان بلوؤں کے بارے میں حیرت انگیز تعاون نظر آیا۔ کیا انٹلیجنس کی وزارت کے پاس ایسی کوئي معلومات ہیں جن سے یہ پتہ چلے کہ میڈیا کی سطح پر اس قسم کے تعاون کے پيچھے کون لوگ یا نیٹ ورک سرگرم عمل تھے کیونکہ انہوں نے اپنے مقصد کے لئے میڈیا اور ثقافت کی بہت سی غیر ملکی ہستیوں کو بھی استعمال کیا ہے؟

 

جواب: یہ بلوے عوامی احتجاج یا سڑکوں پر مسائل پیدا کرنے سے زیادہ، سوشل میڈیا اور سائبر اسپپس میں فعال نظر آتے ہیں اسی لئے ہم اسے 'ذہنوں پر اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا آپریشن' قرار دیتے ہيں۔ اس میدان میں جیسا کہ میں نے آپ کے پہلے سوال کے جواب میں کہا تھا، سیٹیلائٹ چینلوں، سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا کا کردار کسی بھی دوسرے دور سے زیادہ اور عالمی ضوابط سے بہت دور نظر آیا۔

خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں سیٹیلائٹ چینلوں کے چلائے جانے کے علاوہ، انقلاب دشمن تنظیموں کی بہت ساری سرگرمیوں کے بارے میں میڈیا میں بے شمار رپورٹیں موجود ہیں جو غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں سرگرم عمل ہيں جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ امریکہ نے انقلاب دشمن بہت سے دہشت گرد گروہوں کو، ایران انٹرنیشنل سے جوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے ایران انٹرنیشنل چینل ایک دہشت گرد چینل بن گيا اور کچھ مواقع پر صیہونی حکومت نے بھی دہشت گردوں سے رابطہ کیا اور انہيں احکامات دئے۔

سوشل میڈیا پر بلوے کو شدت کے ساتھ پیش کرنا، مختلف یونینوں میں در اندازی اور اسی طرح معروف شخصیتوں پر اثر انداز ہونا، میڈیا وار میں دشمن کے اہم حربے ہوتے ہیں۔  

غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا عمل دخل اتنا زیادہ ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے روایتی کردار کو بدل کر نہ صرف یہ کہ آزادی اظہار اور میڈیا فریڈم کو نقصان پہنچایا بلکہ انہوں نے دھمکی اور دباؤ کے ذریعے ان لوگوں کی سرگرمیوں کو روک دیا جو ان کے مقصد کی راہ میں کام نہيں کر رہے تھے۔

 

سوال : رہبر انقلاب اسلامی کے بیان کے مطابق، خاص طور پر امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب نے ملک میں حالیہ بلوؤں میں واضح طور پر کردار ادا کیا ہے۔ ایران کے سیکوریٹی ادارے اور انٹلیجنس کی وزارت، ملک کے امن و امان کے خلاف کئے جانے والے ان اقدامات کی تلافی کے لئے کیا کرے گي؟

ہمارے سامنے کئي طرح کے کھلاڑی ہيں۔ ایک تو صیہونی حکومت ہے جس کی صورت حال تو واضح ہے۔ اس دشمن حکومت نے اب تک کچھ حرکتیں کی ہیں جس پر خوب شور شرابہ بھی کیا ہے اور اسے اس کا منہ توڑ جواب بھی دیا گيا جس پر پوری طاقت سے پردہ ڈالا گيا اور اسے آگے بھی جواب دیا جائے  گا۔

جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو اس نے ایران سے جو اب تک دشمنی کی ہے اور براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایرانی قوم کو جو نقصانات پہنچائے ہیں، ان کے ساتھ ہی ساتھ یہ دہشت گرد حکومت، باضابطہ طور پر شہید جنرل قاسم سلیمانی کی قاتل بھی ہے۔ زوال پذیر امریکہ کا ایران کے سلسلے میں یہ کردار رہا ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ اور واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ امریکہ میں براہ راست ہم سے جنگ کی طاقت نہيں ہے اور اسی لئے وہ یا تو ایک دہشت گرد گروہ کی شکل اختیار کر لیتا اور باضابطہ طور پر دہشت گردی کرتا ہے کہ جس کا اسے بہادری کے ساتھ دندان شکن جواب بھی دیا جاتا ہے یا پھر وہ اسٹیج کے پیچھے چلا جاتا ہے اور ہائی برڈ وار فيئر کے ذریعے لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔ حالانکہ اسے اس کا بھی ہمیشہ سخت جواب دیا جاتا ہے اور آگے بھی دیا جائے گا۔

لیکن جہاں تک بد طینت برطانیہ کی بات ہے تو چونکہ یہ بوڑھی لومڑی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف خباثت سے کبھی باز نہيں آئي اس لئے اس کا معاملہ مختلف ہے۔ موجودہ دور  میں، برطانیہ سے چلنے والے چینل، ایران میں بد امنی اور بلوے پھیلانے کے لئے کوشاں تھے اور ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ نے ماضی  ميں بھی اور موجودہ دور میں بھی بلوؤں سے بھی آگے قدم بڑھا کر ایران میں دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کا آغاز برطانیہ نے کیا ہے۔ ماضی میں ایران نے بارہا، یورپی ملکوں میں دہشت گردانہ حملے روکنے ميں تعاون کیا ہے لیکن برطانیہ اور کچھ یورپی ملکوں نے اس کے جواب میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی مخاصمانہ کارروائي میں تامل نہیں کیا ہے۔ یقینا ہم، برطانیہ کی طرح کسی بھی دوسرے ملک میں بد امنی پھیلانے کے لئے دہشت گردوں کا ساتھ نہيں دیں گے لیکن اب ان ملکوں میں بد امنی کو روکنے کی ذمہ داری بھی ہماری نہیں ہوگی۔ اس لئے برطانیہ، ایران جیسے عظیم ملک میں بد امنی پھیلانے کی قیمت ضرور ادا  کرے گا۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ برطانیہ کی حکومت کہ جہاں بی بی سی اور ایران انٹرنیشنل چینل، حکومتی نگرانی میں اور ذرائع ابلاغ کی شکل میں کام کر رہے ہیں، آج ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی ریڈ لائنوں کو پار کرنے کے مترادف ہے۔ میں یہیں پر کہہ رہا ہوں کہ ایران انٹرنیشنل سیٹیلائٹ ٹی وی چینل کو اسلامی جمہوریہ  ایران کے سیکوریٹی اداروں کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور اس تنظیم کے ذمہ داروں اور کارکنوں کے خلاف وزارت انٹیلیجنس کارروائی کرے گي اور اب سے اس دہشت گردانہ تنظيم سے کسی بھی قسم کا رابطہ اور اس کے ساتھ تعاون، دہشت گردی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکوریٹی کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا۔

 لیکن جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو ہماری اور علاقے کے ديگر ملکوں کا مستقبل پڑوسی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ ایران کی نظر میں، علاقائي ملکوں میں کسی بھی طرح کی بد امنی، دوسرے ملکوں تک بھی ضرور پہنچتی ہے اور ایران میں کسی بھی قسم کی ناپائيداری، علاقائي ملکوں تک بھی  پھیل سکتی ہے۔ دور دراز کے ملک، ہمارے علاقے میں بد امنی پھیلا رہے ہيں۔ طاقتور ایران پر ان ملکوں کی جانب سے اگر پتھر پھینکا جائے گا جو خود شیشے کے گھروں میں بیٹھے ہيں، تو اس کا مطلب، عقل کو چھوڑ کر حماقت کے اندھیرے میں گم ہو جانے کے علاوہ کچھ نہيں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک عقل و منطق کا دامن تھامے رکھا ہے لیکن اس بات کی کوئي گارنٹی نہيں ہے کہ اگر اس کے خلاف مخاصمت جاری رہی تو اس کے صبر کا پیمانہ کب تک لبریز نہيں ہوگا۔ بلا شبہ اگر ایران ان ملکوں سے بدلہ لینا چاہے یا ان کی طرح ہی کوئي کارروائی کرنا چاہے تو شیشے کے محل چکناچور ہو جائيں گے اور یہ ملک، پائیداری و امن و امان کا منہ دیکھنے کو ترس جائيں گے۔

 

سوال : یقینا ایران میں بد امنی پھیلانے کے لئے جو سازش رچی گئی تھی وہ در اصل جو کچھ ہوا ہے اس سے بہت زيادہ وسیع تھی۔ دوسرے الفاظ میں، اس سازش کا بڑا حصہ، سیکورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا۔ ایران میں بد امنی پھیلانے کے لئے جو دوسرے منصوبے تھے اور ان پر خفیہ اداروں کی نظر تھی ان کے بارے میں کچھ بیان کریں۔

 

جواب: اگر ہم دشمنوں کا اصل مقصد بتانا چاہیں تو یہبالکل واضح ہے کہ دشمن، ایران کو پوری طرح تباہ کرنے کے در پے ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسا کہ اس نے شام، عراق، لیبیا، افغانستان اور یمن میں کیا ہے۔ لیکن مضبوط ایران میں اور اسلامی انقلاب کے تناور درخت کے سلسلے میں نہ وہ کچھ کر پائے اور نہ ہی کبھی کر پائيں گے۔ کم سے کم رواں سال کے آغاز سے مختلف مواقع پر جیسے ٹیچرس ڈے پر یا پھر ایران میں سبسیڈی کے سلسلے میں قانون بناتے وقت، یا پھر یوم عفت و حجاب کے موقع پر انہوں نے ایران میں بد امنی پھیلانے کی پوری کوشش کی جس کا واضح ثبوت، سرحدی علاقوں میں متعدد دہشت گردوں کے خلاف کارروائي، سرحد پار فوج کی کارروائي اور اسی طرح اصفہان کے ایک کارخانے میں دھماکے کی کوشش ناکام بنانے جیسے اقدامات ہيں۔ ابھی انہی بلوؤں میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایم کے او دہشت گرد تنظیم کے تقریبا سو رکن، کرد اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ڈیڑھ سو سے زائد اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے۔