بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا محمّد و آلہ الطّاھرین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین ارواحنا فداہ.

شہدائے عزیز کے والدین، ازواج شہدا اور فرزندان ارجمند، خوش آمدید!

آج اس حسینیے میں شہیدوں کے والدین، ازواج شہدا اور فرزندان ارجمند اور دیگر لواحقین کی آمد سے یہ اجتماع پر نور ہو گیا ہے۔ آپ کے وجود سے شہیدوں کے حضور پر نور کا احساس ہوتا ہے۔ امید ہے کہ اس قوم پر خانوادہ شہدا کا سایہ باقی رہے گا۔ اس قوم کو شہیدوں کی یاد، شہیدوں کے نام اور شہیدوں کے  یادگار واقعات کی ضرورت ہے۔

میں نے آج شہیدوں کے والدین اور ازواج شہدا کے تعلق سے ذہن میں ایک بات تیار کی ہے، نوٹ کی ہے۔ شہدائے عزیز کے بارے میں سبھی نے بہت کچھ کہا ہے اور تا ابد کہتے رہیں گے لیکن شہیدوں کی فضیلت ختم نہیں ہوگی۔ میں چاہتا ہوں کہ ازواج شہدا  اور شہیدوں کے والدین کی طرف سے - جن کے بارے میں، میں عرض کروں گا کہ اس جہاد عظیم میں باقاعدہ شریک اور خود مجاہد ہیں- غفلت نہ برتی جائے۔ آج میری بحث کا موضوع یہ ہے۔

ازواج شہدا اور شہیدوں کے والدین کو چند زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ البتہ شہیدوں کے دیگر لواحقین بھی اس مفہوم میں شریک ہیں، لیکن سب سے زیادہ اہم، شہید کی ماں، شہید کے والد اور شہید کی شریک حیات ہیں اگر ہوں تو۔ انہیں چند زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک زاویہ نگاہ اس اہمیت کے لحاظ سے ہے جو قرآن میں انہیں دی گئي ہے۔ دیکھئے کہ قرآن میں، جہاں شہیدوں کے بارے میں اتنی زیادہ آیات ہیں، شہیدوں کے والدین اور ازواج شہدا کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟ یہ ایک بات۔ اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں کہ شہیدوں کے پسماندگان کو قرآن میں کیا اہمیت دی گئی ہے۔ ایک ان عزیزوں یعنی شہید کے والدین اور شریک حیات کی مجاہدت ہے جو مورد غفلت واقع ہوئی ہے، اس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک ان کی مجاہدت سے غفلت ہوئی ہے۔ اس وقت میں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں چند جملے عرض  کروں گا۔ ایک تو وہ رنج و الم ہے جس کا سامنا اپنے عزیزوں کے بچھڑنے کے بعد انہیں ہوتا ہے۔  یہ غم برداشت کرنا بذات خود خداوند عالم کے نزدیک بلندی درجات کا باعث بنتا ہے۔   

اس غم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ازواج شہدا اور والدین برداشت کرتے ہیں۔ اس پہلو پر نظر رکھیں۔ یہ یادوں کے قیمتی خزانے ہیں جو شہیدوں کے والدین اور ازواج شہدا کے سینوں میں موجود ہیں۔ یہ ایک نقطہ نگاہ۔ میں نے ان چار پہلوؤں کا ذکر کیا، دوسرے زاویوں سے بھی شہیدوں کے والدین اور ازواج شہدا کی زندگی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے ان چند باتوں کا انتخاب کیا ہے جنہیں عرض کروں گا۔ جس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھیں شہید کے والدین اور شریک حیات کی عظمت،  خورشید تاباں کی طرح آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتی ہے۔

پہلا نقطہ نگاہ، یعنی قرآنی اہمیت۔ وہ صبر جو شہید کے والدین اور شریک حیات نے، اپنے عزیز کی شہادت پر کیا ہے- انسان ان کے حالات زندگی کو پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ان پر کیا گزری ہے، جب ان کے عزیز کی شہادت کی خبر انہیں ملی تو انھوں نے کیا صبر کیا ہے، کس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے- یہ صبر اعلی ترین صبر ہے۔ خداوند عالم ان عزیزوں کی طرح صبر کرنے والوں کے لئے فرماتا ہے: اُولٰئِکَ عَلَیهِم صَلَواتٌ مِن رَبِّهِم وَ رَحمَة۔ (1)  آپ نے پیغمبر اور آل پیغمبر پر صلوات بھیجی (2) آپ پر خدا کا درود و صلوات ہو۔ اس سے بالاتر کون سی بات ہو سکتی ہے کہ خداوند عالم، خالق ہستی، مالک دنیا و آخرت، اپنے بندوں پر صلوات بھیجے؟ یہ بہت اہم ہے۔ یہ آپ کے لئے ہے۔ یہ شہید کے والدین اور شریک حیات کے لئے ہے۔ یہاں شہیدوں کے،  وہ فرزند بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنے والد کی شہادت محسوس کی ہو۔ (یعنی اپنے والد کی شہادت کے وقت وہ اتنے با شعور تھے کہ اس کو انھوں نے سمجھا ہو) ایک اور آیت میں خداوند عالم فرماتا ہے: لَن تَنالُوا البِرَّ حَتّىٰ تُنفِقوا مِمّا تُحِبّون (3) کوئی بھی اس وقت تک بلندی حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اس چیز کو جو اسے عزیز ہو، راہ خدا میں نہ دے دے۔ انسان کو اپنی اولاد سے زیادہ کیا چیز عزیز ہو سکتی ہے؟ وہ نوجوان عورت جس کا شریک حیات جاکر شہید ہو جاتا ہے، یہ عاشقانہ محبت جو شوہر اور زوجہ میں پائي جاتی ہے، اس کی جگہ کون سی چیز لے سکتی ہے؟ انھوں نے انہیں راہ خدا میں دیا ہے۔ والدین نے اپنے عزیز بیٹے کو راہ خدا میں پیش کیا اور ہدیہ کیا۔ یا وہ نوجوان بیوی جس نے اپنے محبوب شریک حیات کو راہ خدا میں دے دیا۔ لہذا آپ، شہید کی ماں، شہید کے والد اور شہید کی شریک حیات «لَن تَنالُوا البِرَّ حَتّىٰ تُنفِقوا»  کے بدرجہ اتم    مصداق ہیں۔

ایک سخت جنگ کے بعد جو اصحاب نے لڑی تھی، جس میں شہید  دیے تھے، کتنی سختیاں برداشت کی تھیں، کتنے خطرات مول لئے تھے، جنگ سے واپس آ رہے تھے تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) نے ان سے فرمایا کہ آپ لوگ جہاد اصغر تو کر آئے اب جہاد اکبر آپ کے ذمے ہے۔ کہا کہ یا رسول اللہ یہ جہاد جو ہم نے کیا اس سے بالاتر کیا ہو سکتا ہے؟ فرمایا جہاد اکبر نفس سے جہاد ہے۔ (4) نفس سے جہاد کا مطلب کیا ہے؟ یعنی اپنے اندرونی جذبات سے مجاہدت۔ انسان کے اندر کچھ جذبات ہوتے ہیں، کچھ میلانات ہوتے ہیں، کچھ رجحانات ہوتے ہیں، ان سے جہاد کی ضرورت پڑنے پر ان سے جہاد کرے۔ (اگر) اس لحاظ سے بھی نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ شہید کے والدین اور شریک حیات، جہاد اکبر میں بھی آگے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اپنے جذبات پر غالب رہے۔ جوان بیٹا میدان جنگ میں جانے کے لئے اصرار کرتا ہے، کچھ مانع ہوتا ہے، کوئی رکاوٹ ہوتی ہے،  ماں اپنے بیٹے سے جو محبت کرتی ہے، اس کے باوجود وہ رکاوٹ دور کر دیتی ہے! یہ ہمارے شہیدوں کے حالات زندگی میں موجود ہے۔ ہم نے انہیں دیکھا ہے۔ میں نے ان مادران شہدا کی زیارت کی ہے جنہوں نے اپنے بیٹے کو خود دفن کیا ہے، خود کفن پہنایا ہے، جنازہ تیار کیا ہے۔ یہ آسان ہے؟ اگر ہم نے یہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا، یا ان افراد سے نہ سنا ہوتا جنہوں نے دیکھا ہے تو یقین نہ کر پاتے۔ لیکن یہ ہوا ہے۔  لہذا اسلامی نظام اقدار میں خانوادہ شہدا، یعنی شہید کے والدین اور شریک حیات کا درجہ بہت بلند ہے، ان کی فضیلت دیگر مومنین و مومنات سے زیادہ ہے۔ شہید کے والدین اور شریک حیات سے اس نقطہ نگاہ کے ساتھ ملنا چاہئے، اس نقطہ نگاہ  سے انہیں دیکھنا چاہئے۔ یہ پہلی بات۔

دوسری بات ہم نے کہا کہ وہ جہاد ہے جو مورد غفلت واقع ہوا ہے۔ جہاد کا نام آتا ہے تو پہلی چیز جو ہماری نگاہوں میں مجسم ہوتی ہے وہ ایک مجاہد نوجوان ہے جو میدان میں جنگ کرتا ہے۔ ہاں صحیح ہے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے، لیکن صرف وہی نہیں ہے۔ میدان سے باہر بھی کچھ مجاہدین ہیں: وہ خاتون جو اپنے گھر کو مجاہدین کے لئے روٹی پکانے کا مرکز بنا دیتی ہے، وہ بھی مجاہد ہے۔ وہ گھرانے بھی جو پوری زندگی، مجادین کے لئے خوراک اور دیگر وسائل کی تیاری کے لئے وقف کر دیتے ہیں، وہ بھی مجاہد ہیں، جہاد میں شریک ہیں۔ مجاہد صرف وہ نہیں ہے جو میدان جنگ میں ہے۔ اگرچہ مجاہد کا اصلی اور کامل مصداق، وہی ہے لیکن میدان سے باہر بھی کچھ مجاہد ہیں۔ میدان جنگ سے باہر کے مجاہدین میں شہید کے والدین اور شریک حیات کے درجے تک  کون پہنچ سکتا ہے؟ وہ جو گھر کے اندر روٹی پکاتی ہے اور میدان جنگ میں بھیجتی ہے، اس کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو اپنے جوان کو میدان میں بھیجتی ہے، اس کا مرتبہ کیا ہے؟ میدان جنگ میں کھانا، کمبل اور لباس وغیرہ بھیجنا کہاں اور اپنے میوہ دل اور جوان رعنا کو بھیجنا کہاں! یہ مجاہد ہیں۔  یہ جہاد مورد غفلت واقع ہوا ہے۔  جب ہم مجاہدین کا شمار کرتے ہیں تو اس خاتون پر جو شہید کی ماں ہے، اس مرد پر جو شہید کا باپ ہے، یا اس عورت پر جو شہید کی شریک  حیات ہے، توجہ نہیں دیتے۔ یہ مجاہد ہیں۔ فَضَّلَ اللَہُ المُجاھِدینَ عَلَى القاعِدین(5) مجاہدین میں یہ بھی شامل ہیں۔ یہ بھی مجاہد فی سبیل اللہ ہیں۔ اگر گھر والوں نے ساتھ نہ دیا ہوتا تو یہ رزمیہ کارنامہ وجود میں نہ آ پاتا۔ یہ آٹھ سالہ مقدس دفاع، یہ عظیم رزمیہ کارنامہ، -بعد میں عرض کروں گا کہ یہ رزمیہ کارنامہ ہمارے ملک کی تاریخ کے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے-  (شہید کے) والدین اور شریک حیات کے عزم سے انجام دیا گیا۔ در اصل انہی نے یہ عظیم رزمیہ کارنامہ شروع کیا ہے۔ اگر شہید کے والد بے چینی اور ناراضگی کا اظہار کرتے، اعتراض کرتے کہ میرا بیٹا کیوں گیا؟ میرا بیٹا کیوں مارا گیا؟ مائیں بھی اسی طرح، تو یہ عظیم رزمیہ کارنامہ انجام نہ پاتا۔ پہلا گروپ جو گیا تو اس کے بعد دوسرا دستہ نہ جاتا۔ یہ اس نگاہ سے۔

تیسرا نقطہ نگاہ خانوادہ شہدا کا رنج و الم ہے۔ جب شہید، شہادت کے درجے پر فائز ہو گیا تو شہادت اس کی راحت و سکون کا آغاز ہے لیکن اس کے ماں باپ کے لئے اور اس کی شریک حیات کے لئے رنج و الم کی ابتدا ہے۔ جب شہید اس دنیا سے جاتا ہے تو ملکوت اعلی میں خود خدا کا مہمان ہوتا ہے، اس کا رزق خود خدا عنایت فرماتا ہے، یہ اس کے آرام کی ابتدا ہے۔ لیکن باپ؟ ماں؟ اور شریک حیات؟ جب یہ سنتے ہیں کہ ان کا عزیز شہید ہو گیا ہے اتو ان کا رنج و الم شروع ہو جاتا ہے اور ختم نہیں ہوتا۔ زندگی گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں انسان بھول جاتا ہے لیکن جو چیز فراموش نہیں ہوتی وہ عزیزوں کا داغ ہے۔ اس حالت اور اس صورت میں جب انسان شہیدوں کے بارے میں لکھي گئي کتابیں پڑھتا ہے تب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ شہید کے باپ پر، شہید کی ماں پر اور شہید کی شریک حیات پر کیا گزری ہے۔ یہ بات وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے ہیں جو دور سے دیکھتے ہیں۔  یہ رنج و الم  بلندی درجات لاتا ہے۔ خدا کے نزدیک یہ رنج و الم بلاعوض باقی نہیں رہتا۔ اس رنج و الم کی قوت برداشت انسان کو عظمت عطا کرتی ہے۔

چوتھا نقطہ نگاہ۔ ہم نے کہا کہ شہید کے ماں باپ اور شریک حیات شہیدوں کی یادوں کے گنجینے ہیں۔  شہدا ملک کے ہیرو ہیں۔  ہمارے ملک کے ہیرو، شہدا ہیں۔ ہمارے لئے شہیدوں سے بڑا کوئی ہیرو نہیں ہے۔  شہدا تھے جنہوں نے سخت ترین میدان میں مجاہدت کی اور اعلی ترین درجات پر فائز ہونے اور دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ہیرو ہیں۔  سبھی اقوام اپنے ہیرو کا احترام کرتی ہیں۔ یہ بات صرف ہم سے مخصوص نہیں ہے۔ جب کوئی فرد کسی قوم میں ہیرو بن جاتا ہے تو اس کی یاد، اس کی زندگی اور اس کی سبھی باتیں عوام کے لئے اہم ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہیرو ہمارے شہدا ہیں، ان کی یاد ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ شہیدوں کی روش کیا تھی ؟ یہ شہیدوں کے والدین اور ازواج شہدا بتا سکتی ہیں۔ یہ ہمارے لئے نمونہ عمل ہوتے ہیں۔ شہیدوں کی اخلاقی خصوصیات کیا تھیں؟ ان کے اندر کون سی نمایاں اخلاقی خصوصیات پائی جاتی تھیں؟ شہیدوں کا طرز زندگی کیا تھا؟ شہیدوں کے شرح حال کی کتابیں انسان پڑھتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک ایسے باغ میں داخل ہو گیا ہے جہاں انواع و اقسام کے خوبصورت اور بہترین خوشبو دار پھول کھلے ہیں۔ ان کتابوں میں انسان، ان شہیدوں کے انواع و اقسام کے ممتاز اور خوبصورت  نیک عادات و اطوار کو دیکھتا ہے۔ ان شہیدوں میں سے بعض کی زندگی میں جو انقلاب آیا ہے۔ ان میں سے بعض شہدا، شہادت سے تھوڑا پہلے تک راہ خدا اور راہ جہاد پر نہیں تھے، پھر کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے کہ ان کی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے، وہ پیچھے سے –اس راہ میں جس پر ہم آگے آگے چل رہے ہوتے ہیں- آتا ہے اور ہم سے آگے بڑھ کر شہادت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ درس ہے۔

اپنی شریک حیات اور اولاد سے پائي جانے والی آتشیں محبت سے شہیدوں کا گزر جانا، شہید کی چھوٹی چھوٹی اولادیں ہوتی ہیں- ابھی جوان ہے، دو تین چھوٹے بچے ہیں- ان سے اس کی قلبی وابستگی ہے، اپنی شریک حیات سے اس کی قلبی وابستگی ہے، ماں باپ سے قلبی لگاؤ ہے، ( لیکن) خدا کے لئے اور دین، اسلام اور انقلاب کے دفاع کے لئے، ان سب کو چھوڑ دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔

جو مقدس دفاع میں شہید ہوئے وہ بھی اور وہ بھی جو لوگوں اور سرحدوں کی سلامتی اور سیکورٹی فراہم کرنے میں شہید ہوئے اور وہ بھی جو ان چند برسوں کے دوران، دفاع حرم، روضہ ھای مبارک  کے دفاع کے لئے گئے، جنھوں نے روضہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا دفاع کیا، ان سب نے اپنی بہترین اور شیریں ترین وابستگیوں کی قربانی دی، اپنی محبتوں کو قربان کیا اور گئے۔ یہ سب مثالی نمونہ عمل ہیں۔ نوجوانوں کو ایسی مثالی ہستیوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں وہ اپنے لئے نمونہ عمل بنا سکیں اور یہ ہمارے ملک اور نوجوانوں کے لئے زندہ مثالی نمونہ عمل  شمارے ہوتے ہیں۔ ان کی یادوں کو زندہ رہنا چاہئے۔ ان یادوں کو کون زندہ رکھ سکتا ہے؟ ماں باپ، وہ جنہوں نے انھیں پالا ہے اور وہ شریک حیات جس نے ان کے ساتھ ایک عرصہ زندگی گزاری ہے۔ ان کے طرز عمل، ان کی دینی وابستگیوں اور پابندیوں، ان کی سماجی دلچسپیوں اور جذباتی وابستگیوں کو بیان کریں۔ یہ سب درس ہیں۔ یہ سب اپنے شہیدوں کے تعلق سے آپ کی یادوں میں موجود ہے، یہ درس ہے، انہیں بیان کرنا چاہئے، انہیں نشرکرنا چاہئے تاکہ ملک کی نوجوان نسل ان سے استفادہ کرے۔

میرے عزیزو! جو چیز بہت اہم ہے – اور یہ آخری جملے ہیں جو میں عرض کر رہا ہوں- (یہ ہے کہ) آپ کے فرزندوں اور آپ کے شہیدوں نے ملک کی تاریخ کے حساس ترین دور میں ملک کی قسمت بدل دی۔ ایک حساس ترین دور میں ملک کو جو بہت تیزی کے ساتھ اخلاقی، دینی  اور سیاسی پستیوں کی کھائي میں جا رہا تھا، بچانے کے لئے اسلامی انقلاب آیا اور اس نے ملک کی حفاظت کی، اس کے بعد دشمن نے فوجی حملہ کر دیا تو یہ نوجوان تھے جو گئے اور انھوں نے آٹھ سال تک استقامت سے کام لیا اور ملک کو بچایا۔ اس کے بعد سے آج تک، مختلف فتنہ انگیزیوں کے موقع پر، آشوب بپا کرنے کی مختلف کوششوں کے موقع پر اور دشمنوں کے انواع و اقسام کے حملوں کے سامنے ہمارے نوجوان سینہ سپر ہوئے اور ان میں سے کچھ شہید ہوئے- جیسے ان حوادث میں جو گزشتہ سال اور گزشتہ برسوں میں رونما ہوئے- اور ملک کی حفاظت میں کامیاب رہے۔ انھوں نے ملک کو سربلند کیا ہے۔ ہمارے نوجواںوں نے یہ کام کیا ہے، آپ کے شہیدوں نے یہ کام انجام دیا ہے۔ ہم جیسے لوگ یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ ہم نے  وہ اقدام کیا اور وہ کام کیا۔ نہیں! اگر ان نوجوانوں کی فداکاری نہ ہوتی تو ملک کے لئے کچھ بھی نہ ہو پاتا، ملک زوال کی طرف جا رہا تھا، جس نے اس کو روکا وہ مومن، متدین، انقلابی، دلیر اور  فداکار نوجوان تھے جنہوں نے یہ اہم کام کیا۔ ہمارے نوجوانوں نے ملک کو بڑے خطرات سے نکالا اور خطرات کو عبور کیا۔ ہمارے ملک کو بڑے خطرات سے بچایا۔ خطرات کا مرحلہ عبور کیا اور خطرات کو مواقع میں تبدیل کر دیا۔  

یہاں میں ان لوگوں سے خطاب کرنا چاہتا ہوں جو اہل فن و ہنر ہیں، جو ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھتے ہیں، لکھنے والے ہیں، اہل قلم ہیں، شاعر ہیں، مصور اور فنکار ہیں۔ ان یادوں کو فن و ہنر کی زبان کی مدد سے دائمی بنا دیجئے۔ البتہ حالیہ برسوں میں اس سلسلے میں اچھے کام کئے گئے ہیں۔ یہ کتابیں اور بعض فلمیں اور آرٹ کے دیگر شعبوں میں کچھ کام بہت اچھے کئے گئے ہیں۔ یہ بہت اہم ہیں، ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، لیکن جو ہونا چاہئے تھا، یہ اس سے کم ہے۔ ہمارے شہدا کی تعداد زیادہ ہے۔ ان میں سے ہر ایک، ایک دنیا ہے، ہر ایک میں آرٹ اور فن کے کئی کئي موضوعات پائے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں فلمیں بنائی جا سکتی ہیں، کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور مصوری کے فن پارے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ انہیں نوجوان نسل میں متعارف کرایا جائے، یہ ہمارا فریضہ ہے۔ اگر لوگ آئیں اور کہیں کہ آپ شہید کی شریک حیات ہیں، شہید کے والد ہیں، شہید کی ماں ہیں، آپ سے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں تو انکار نہ کریں۔ میں کچھ لوگوں سے سنتا ہوں کہ خانوادہ شہدا کے پاس گئے، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نہیں! شہید کو جتنا زیادہ ہو سکے متعارف کرائيں، یہ ہم سب کا فریضہ ہے۔

بہرحال خداوند عالم نے آپ کو عزت عطا فرمائی ہے۔ آپ کو خدا نے جو عزت و شرف عطا فرمایا ہے اس کی حفاظت ہمارا فریضہ ہے۔ ہمیں یہ کام کرنا چاہئے۔ امید ہے کہ خداوند عالم تمام ذمہ دار حکام کو خانوادہ شہدا کے تعلق سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے گا تا کہ وہ یہ فرائض صحیح طور پر انجام دے کر  رضائے الہی  حاصل کر سکیں۔

مجھے کافی دنوں سے خانوادہ شہدا سے ملاقات کا اشتیاق تھا لیکن وقت (کی کمی) اور دیگر امور مانع ہو جاتے ہیں۔  اب بھی بہت سے شہیدوں کے والدین اور ان کے خانوادے ہیں جن سے ملاقات کی آرزو ہے اور افسوس ہے کہ اب تک ان سے نہیں مل سکا ہوں۔ آج آپ کی جو تھوڑی سی زیارت ہو گئی، اسی پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ آپ کامیاب رہیں۔ خداوند عالم ان شاء اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے، آپ کے شہیدوں کو پیغمبر کے ساتھ محشور فرمائے اور آپ کو آپ کے شہیدوں کی شفاعت سے بہرہ مند کرے۔    

   
و السّلام علیکم و رحمة ‌الله و برکاته

1۔ سورہ بقرہ، آیت نمبر 157: "ان پر ان کے پروردگار کا درود و رحمت ہو ..."

2۔ حاضرین کے نعرہ صلوات کے جواب میں

3۔ سورہ آل عمران آیت نمبر 92

4۔ کافی، جلد 5 ص 12۔ " اَنَّ النَّبِیَّ بَعَثَ بِسَریَّةٍ فَلَمّا رَجَعوا قالَ مَرحَباً بِقَومٍ قَضَوُا الجِهادَ الاَصغَرَ وَ بَقِیَ الجِهادُ الاَکبَرُ قیلَ یا رَسولَ اللَهِ وَ مَا الجِهادُ الاَکبَرُ قالَ جِهادُ النَّفس"

5۔ سورہ نساء، آیت نمبر 95۔" خدا نے مجاہدین کو گھر میں بیٹھنے والوں پر برتری عطا فرمائی ہے۔"