بسم اللہ الرّحمن الرّحیم. و الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی ‌القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.

بعثت نبوی کی مبارک اور عظیم عید کی آپ تمام حاضرین محترم، ایرانی قوم اور دنیا کے تمام مسلمانوں کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عید بعثت تاریخ کے عظیم ترین واقعے کی یاد دلاتی ہے، پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سب سے مبارک اور سب سے عظیم واقعہ جو دنیا میں پوری تاریخ میں انسانیت کے لیے رونما ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت ہے۔ آنحضرت کی ولادت کے بارے میں بھی ہم یہی بات کہتے ہیں، وہ بھی بعثت کی برکت کے باعث ہے۔ نبی اکرم کی بعثت کے تعلق سے کیوں اتنی فضیلت اور قدر و منزلت کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے کہ اس بعثت کے نتیجے میں انسان کی سعادت کے لیے، چاہے وہ دنیوی سعادت ہو، چاہے اخروی سعادت ہو، ایک مکمل، حتمی اور دائمی نسخہ سامنے آ گیا۔

اس سلسلے میں انسان سب سے پہلے جس معجزے اور غیر معمولی واقعے کا مشاہدہ کرتا ہے، وہ بعثت کا اُس انتہائي دشوار ماحول میں وقوع پذیر ہونا ہے، بعثت کا آغاز ایسے عجیب ماحول میں ہوا۔ اس وقت دنیا ایک ایسی دنیا تھی جس میں انسانیت سر تا پا انحراف، بے راہ روی اور مصائب میں ڈوبی ہوئی تھی۔ امیر المومنین علیہ السلام اس جاہلیت کے زمانے کے بارے میں، جس میں پیغمبر اکرم کی بعثت شروع ہوئي، فرماتے ہیں: "وَ الدُّنیا کاسِفَۃُ النّورِ ظاھِرَۃُ الغُرور" دنیا تاریک تھی، لوگوں میں پیشرفت، آگہی اور بصیرت نہیں تھی۔ "قَد دَرَسَت مَنارُ الھُدىٰ" وہ ہدایتیں جو انبیاء لے کر آئے تھے اور لوگوں کے سامنے اور لوگوں کی راہوں پر انھوں نے جو ہدایت کی مشعلیں اور ہدایت کے منارے قائم کیے تھے، وہ بوسیدہ ہو گئے تھے، ان میں تحریف کر دی گئي تھی، انھیں منہدم کر دیا گيا تھا۔ "وَ ظَھَرَت اَعلامُ الرَّدىٰ"(2) انسانیت کے انحطاط اور زوال کی علامتیں ظاہر ہو گئي تھیں۔ یہ عرب ماحول اور جزیرۃ العرب کی بات نہیں ہے بلکہ دنیا کی بات ہے: "وَ الدُّنیا کاسِفَۃُ النّورِ، مطلب یہ کہ اس زمانے کا ایرانی تمدن، اس وقت کا رومی تمدن اور دنیا کے دوسرے بڑے تمدن، سب اس میں شامل ہیں، امیر المومنین کی یہ بات سب کے بارے میں ہے۔ تو ایسے ماحول میں یہ بعثت وقوع پذیر ہوئي، اس بعثت کے بارے میں ہم نے کافی باتیں کی ہیں(3) دوسروں نے بھی کی ہیں، نبی اکرم کی داخلی بعثت اور معاشرے میں اس بعثت کے اثرات وغیرہ کے بارے میں، یہ الگ بحث ہے۔

تو بعثت نبوی وقوع پذیر ہوئي۔ اس بعثت کا عملی پروگرام کیا ہے؟ میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن مجید میں مختلف آیات میں اسے صراحت سے بیان کیا گيا ہے۔ انہی میں سے ایک آيت، سورۂ جمعہ کی یہ آیت مبارکہ ہے: "ھُوَ الَّذی بَعَثَ فِی الاُمِّیّینَ رَسولاً مِنھُم یَتلوا عَلَیھِم آیاتِہِ وَ یُزَکّیھِم وَ یُعَلِّمُھُمُ الکِتابَ وَ الحِکمَۃ"(4) علمی پروگرام یہ ہے۔ یَتلوا عَلَیھِم آیاتِہِ، پہلا کام، غیب اور الوہیت سے رابطے کا راستہ کھولنا ہے۔ مادی انسان اور مادی ڈھانچے میں محصور اور مبتلا انسان کو، جو مادّے کے باہر کسی چیز کو نہیں جانتا اور اس سے مطّلع نہیں ہے، اس ڈھانچے سے باہر نکالا جائے اور اسے معرفت پروردگار کے وسیع میدان میں پہنچا دیا جائے۔ سب سے پہلے یہ ہے، یعنی ایمان، پہلا قدم ایمان ہے۔

پھر جب انسان اس محدود اور تنگ مادّی چہار دیواری سے باہر آ گيا تو "یُزَکّیھِم" ہے، یعنی تزکیہ۔ تزکیے کے معنی عیوب اور کمیوں کو دور کر کے بلندی حاصل کرنا اور پیش کرنا ہے۔ جس چیز کا تزکیہ کرنا ہے اس سے سیاہ دھبوں کو دور کرنا اور اسے رشد و نمو کے لیے تیار کرنا اور رشد عطا کرنا، یہ تزکیہ کا مطلب ہے۔ تو جس چیز کا تزکیہ ہونا ہے، وہ کیا ہے؟ بات صرف انسان کے اخلاقی تزکیے کی نہیں ہے، اہم بات یہ ہے۔ تزکیے کا مطلب ہے برائیوں اور عیوب کو دور کرنا، انسان کے باطن سے باطل کو دور کرنا، ہمارے اندرونی اخلاق سے، معاشرے سے، عقیدے سے، عمل سے، رویے سے، طرز زندگي سے، یہ تزکیے کے معنی ہیں۔ یعنی انسان اور معاشرے کے تمام امور کی اصلاح کے لیے، جس میں تمام پہلو شامل ہوتے ہیں، جیسے سیاست، معاشی رابطے، سماجی رابطے، معاشرے میں ناانصافی، عالمی سطح، حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر ناانصافی جیسے امور کی اصلاح کے لیے یہ ایک ہمہ گیر عمل ہے، اس میں طبقاتی فاصلوں کی اصلاح بھی شامل ہے، تزکیے میں یہ سبھی چیزیں شامل ہوتی ہیں، یُزَکّیھِم۔

پھر جب تزکیے کا مسئلہ سامنے رکھ دیا گیا تو اس کے بعد تعلیم کا مرحلہ آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ چیزیں وقت کے لحاظ سے ایک دوسرے پر منحصر ہوں، نہیں، یہ تدریجی چیزیں ہیں، تزکیہ رفتہ رفتہ ہوتا ہے، اسی کے ساتھ تعلیم بھی ہے۔ تعلیم کا کیا مطلب ہے؟ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جب تاریکیوں، نقائص، عیوب اور باطل کے دور ہو جانے سے ذہن اور روح آمادہ ہو گئے، زمین ہموار ہو گئی، تو وہ وقت، حکمت الہی اور علم الہی کے انوار کی تجلی کا وقت ہے۔ الہی حکمتوں کی بحث کے تفصیلی اور طویل بحث ہے۔ در حقیقت تزکیہ، راہ ہموار کرتا ہے، زمین کو تیار کرتا ہے اور تعلیم، معنویت کے لحاظ سے، معرفت کے لحاظ سے، علم و دانش کے لحاظ سے انسان کو غنی بناتی ہے، سماج کو مالامال بناتی ہے اور ویسا انسان تیار ہوتا ہے، جیسا اسلام چاہتا ہے، انسان کی وہ تربیت معرض وجود میں آتی ہے جو اسلام، انسان سے چاہتا ہے اور انسان کے لیے چاہتا ہے۔ ہم سبھی کے اور پوری انسانیت کے موجودہ مسائل، یہی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بعثت اور یہ تغیر، یہ تبدیلی، یہ نیکی، اچھائی اور روشنی کا فروغ، تاریکی، مصیبت اور مشکلات کا خاتمہ اور اسی طرح کی دوسری چیزیں، اچانک اور یکبارگي ہونے والا کام نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ ایک بار بعثت ہوئي اور ختم ہو گئی، اس کے بعد جو کچھ بھی ہوگا وہ اسی پہلی بعثت کے نتائج میں سے ہی ہوگا، ایسا نہیں ہے۔ یہ آیت، یہ بات نہیں کہتی۔ یہ آیت فرماتی ہے: "ھُوَ الَّذی بَعَثَ فِی الاُمِّیّینَ رَسولاً مِنھُم یَتلوا عَلَیھِم آیاتِہِ وَ یُزَکّیھِم وَ یُعَلِّمُھُمُ الکِتابَ وَ الحِکمَۃ وَ اِن کانوا مِن قَبلُ لَفی‌ ضَلالٍ مُبینٍ‌ * وَ آخَرینَ مِنھُم لَمّا یَلحَقوا بِھِم"(5) یہ بعثت، ان لوگوں کے درمیان بھی ہے اور ان آخری لوگوں کے درمیان بھی ہے۔ یہ 'واو' لفظ 'امیین' پر عطف ہے: بَعَثَ فِی الاُمِّیّینَ و فیَ آخَرینَ۔ وہ 'آخرین' کون لوگ ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو "لَمّا یَلحَقوا بِھِم" ابھی نہیں آئے ہیں یعنی آج بعثت کا خطاب ہم سے ہے، بعثت ہمارے درمیان بھی ہے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت بھی ہماری تعلیم اور ہمارے تزکیہ کر رہے ہیں، اسی وقت ہم مخاطَب ہیں، بعثت کے مخاطَب ہیں۔ انسانیت کی ابدی تاریخ میں یہ چیز موجود رہے گي، انسانیت ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیم و تربیت کی مخاطَب ہے۔

جس طرح سے پیغمبر نے اُس وقت کے لوگوں کو بتوں سے دوری اور بتوں کو توڑنے کی دعوت دی، اسی طرح آج بھی یہ خطاب موجود ہے۔ سب سے پہلا بت، خود ہمارا بت ہے، ہمارے اندر کا بت، ہمارے نفس کا بت، ہماری خواہشات کا بت اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے بقول ہمارے وجود کے اندر کا وہ خطرناک جانور! یہ سب سے پہلا خطرہ ہے، یعنی سب سے پہلا مقابلہ اس سے جو ہمارا سب سے قریبی دشمن ہے، ہمارا نفس ہمارا دشمن ہے، ہمیں نفس سے لڑنا چاہیے۔ اس کے بعد باہری انحرافات ہیں جن میں سب سے پہلا کام، سب سے قریبی علاقے کی اصلاح ہے یعنی ہمارا اپنا سماج۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ جو دنیا کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کی اصلاح کیجیے! ہاں ٹھیک ہے، ہمیں پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے، پہلے اپنے سماج کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ خود ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور بعثت کا مطالبہ ہے کہ ہم خود اپنی اصلاح کریں، جب ہماری اصلاح ہو گئي اور اگر ہم نے اسلام کا ایک بھی اصلاح شدہ نمونہ انسانیت کے سامنے پیش کر دیا تو وہ خود میں پرکشش ہوگا اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے گا۔

تزکیے اور تعلیم کے دو فریق ہیں: ایک فریق داعی یا دعوت دینے والا ہے اور دوسرا فریق وہ ہے جسے دعوت دی جا رہی ہے۔ تو اگر وہ داعی ہو، جو کہ ہے تو پیغمبر آج ہم سب کو دعوت دے رہے ہیں، لیکن اگر جسے دعوت دی جا رہی ہے وہ لبیک نہ کہے تو پھر کچھ نہیں ہوگا۔ جو کچھ ہمارے انقلاب میں ہوا وہ یہ تھا کہ جن لوگوں کو دعوت دی گئي تھی، انھوں نے لبیک کہا۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے پیغمبر کی باتوں کو، پیغمبر کی بعثت کو لوگوں کے سامنے بیان کیا، لوگوں کو مجاہدت کی دعوت دی، لوگوں نے قبول کیا اور ان کی آواز پر لبیک کہا تو یہ عظیم تحریک وجود میں آئي، یہ عظیم کام انجام پایا۔ آگے چل کر بھی ہمارے عوام نے خداوند عالم کی توفیق سے، خدا کے فضل و کرم سے سیدھے راستے پر چلنا جاری رکھا، بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئي ہیں، بعض مواقع پر ہم نے کوتاہی کی تو وہاں ہم ناکام رہے۔

یہ سنّت جاری ہے، یہ دائمی سنّت ہے، جب بھی ہم پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہیں گے وہ تزکیہ حاصل ہو جائے گا، وہ تعلیم حاصل ہو جائے گی، وہ رشد اور وہ پیشرفت وجود میں آ جائے گي۔ رشد و نمو صرف معنوی اور اخروی نہیں ہے؛ "رَبَّنا آتِنا فِی الدُّنیا حَسَنَۃً وَ فِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃ"(6) بلکہ دنیوی و اخروی رشد ہے۔ انسان کی دنیا کے لیے بہترین زندگی کا نمونہ، سماج کی دنیا اور سماج کی آخرت ہے۔ اگر ہم نے، جنھیں دعوت دی گئي ہے، لبیک کہا تو یہ کام ہو جائے گا۔ داعی موجود ہے، پیغمبر اکرم ہمیں دعوت دے رہے ہیں۔ ہم وہی "آخرین" ہیں جو "لَمّا یَلحَقوا بِھِم" ہیں، ہمیں دعوت پر لبیک کہنا چاہیے۔ عید بعثت کے دن، بعثت نبوی کی سالگرہ کے دن ہمیں اس نکتے پر توجہ دینی چاہیے کہ ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت مخاطب ہے، اگر ہم نے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہا تو ہم بھی اس آيت کریمہ کے مصداق بن جائيں گے: "مَثَلُ الَّذینَ حُمِّلُوا التَّوراۃَ ثُمَّ لَم یَحمِلوھا"(7) ان لوگوں کو توریت دی گئي تھی، توریت میں نور تھا، حکمت الہی تھی، دعوت الہی تھی، توریت، احکام الہی کا مجموعہ تھی، لیکن ان لوگوں نے اس پر عمل نہیں کیا، اگر ہم بھی عمل نہ کریں تو انھیں کی طرح ہو جائيں گے۔ مَثَلُ الَّذینَ حُمِّلُوا التَّوراۃَ ثُمَّ لَم یَحمِلوھا۔ تو یہ باتیں بعثت کی بارے میں تھیں جو میں نے عرض کیں۔

اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج دنیا کو اس دعوت کی ضرورت ہے، اس بعثت کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کے لوگوں کی زندگي، اچھی زندگي نہیں ہے۔ دنیا کے بعض ممالک میں کچھ ظاہری باتیں دکھائي دیتی ہیں لیکن یہ ظاہری باتیں، ان معاشروں کی سعادت کو ظاہر نہیں کرتیں، ان معاشروں میں بھی دیگر سماجوں کی طرح غربت ہے، پریشانی ہے، امتیازی سلوک ہے، ظلم ہے، حق مارنا اور حق کی پامالی ہے۔ آج کا انسان، مادّی ڈھانچے میں پھنسا ہوا ہے، اسے اس نبوی تعلیم و تزکیے اور بعثت نبوی کی شدید ضرورت ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کی تعمیر کریں اور دنیا کو دکھائيں کہ ایک اسلامی ملک کا اور ایک اسلامی سماج کا انتظام کس طرح چلایا جاتا ہے، ہمیں حقیقی معنی میں عمل کرنا چاہیے، جیسا کہ ہم نے بعض مواقع پر عمل کیا اور بحمد اللہ اس نے دنیا پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ ہماری کچھ کوتاہیاں بھی رہی ہیں، بحمد اللہ کچھ کامیابیاں بھی ہیں۔

غزہ کے بارے میں بھی کچھ جملے عرض کروں۔ افسوس کہ غزہ کی مصیبت جاری ہے۔ یہ مصیبت عالم اسلام کی مصیبت ہے بلکہ اس سے بھی بالاتر، یہ انسانیت کی مصیبت ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ عالمی نظام، کتنا باطل نظام ہے یعنی عالمی طاقتوں کا ایک بہت بڑا حصہ صیہونی حکومت کے مجرم اور خون آلودہ ہاتھوں کی پشت پر کھڑا ہے جس کا فریق مقابل مجاہدین نہیں بلکہ بچے، عورتیں، بیمار افراد، اسپتال اور لوگوں کے گھر ہیں۔ امریکا، صیہونی حکومت کی پشت پر ہے، برطانیہ اس کی پشت پر ہے، بہت سے یورپی ممالک اس کی پشت پر ہیں اور ان کے پٹھو بھی اسی طرح، وہ ممالک جو ان کی تقلید کرتے ہیں، ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں، اسی طرح ہیں۔ اس عالمی نظام کو دیکھیے، اس عالمی نظام کے ناکارہ پن کو اسی غزہ کے واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے اور یہ باقی رہنے والا نہیں ہے، یہ جاری رہنے والا نہیں ہے، یہ ختم ہو کر رہے گا۔

غزہ کے واقعے نے مغربی تمدن اور مغربی ثقافت کو دنیا میں رسوا کر دیا، یہ دکھا دیا کہ ان کا تمدن ایسا ہے جس میں ایسی بے رحمی پائي جاتی ہے اور جائز ہے جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں، اسپتالوں پر بمباری کر رہے ہیں، ایک رات میں سیکڑوں لوگوں کا قتل کر دیتے ہیں، تین چار مہینے کے اندر ایک علاقے میں تقریبا 30 ہزار افراد کا جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں، قتل کر دیتے ہیں!

صیہونی حکومت کی پشت پر امریکا ہے، یہ بات خود صیہونی بھی کہتے ہیں، وہ اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر امریکی ہتھیار نہ ہوتے تو صیہونی حکومت ایک دن بھی اس جنگ کو جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ پہلے ہی دن سے امریکی ہتھیار ان کے پاس آنے شروع ہو گئے تھے، پیسے بھی، ہتھیار بھی، سیاسی امداد وغیرہ بھی۔ امریکی بھی مجرم ہیں اور اس تلخ واقعے کے ذمہ داروں میں شامل ہیں۔

راہ حل صرف یہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں کنارے ہٹ جائيں، صیہونی حکومت کی حامی طاقتیں اس معاملے سے خود کو دور کر لیں اور فلسطینی مجاہدین جانتے ہیں کہ میدان (جنگ) کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے، جیسا کہ انھوں نے آج تک اس میدان کو کنٹرول کیا ہے اور بحمد اللہ آج تک انھیں کوئي بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ صیہونیوں کے فریق مقابل یہی مظلوم اور نہتے عوام ہیں، جو وہاں پر موجود ہیں۔

جہاں تک حکومتوں کی ذمہ داری کی بات ہے تو وہ صیہونی حکومت کو سیاسی، تشہیراتی، اسلحہ جاتی اور اشیائے صرف کی ترسیل ختم کرنا ہے، یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ جہاں تک اقوام کے فرض کی بات ہے تو انہیں حکومتوں پر یہ دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اس بڑی ذمہ داری کو انجام دیں۔ یہ کام ہونا چاہیے اور ان شاء اللہ خداوند عالم کی توفیق سے غزہ کے عوام کی فتح روز بروز زیادہ نمایاں ہوتی جائے گي۔

ہمیں امید ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام، غزہ اور فلسطین کے دوسرے علاقوں کے مظلوم عوام، فتح کا مشاہدہ کریں گے اور ان شاء اللہ اپنے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

(1) اس ملاقات کے آغاز میں صدر مملکت حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابراہیم رئيسی نے مختصر تقریر کی۔

(2) نہج البلاغہ، خطبہ نمبر89

(3) منجملہ، ملکی عہدیداران اور اسلامی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات میں خطاب (5/5/2016)

(4) سورۂ جمعہ، آیت 2، وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

(5) سورۂ جمعہ، آیت 2 اور 3، وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور (آپ کو) ان لوگوں میں سے دوسروں کی طرف بھی بھیجا جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ...

(6) سورۂ بقرہ، آیت 201، اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر۔

(7) سورۂ جمعہ، آيت 5، اور جن لوگوں (یہود) کو تورات کا حامل بنایا گیا مگر انھوں نے اسے نہ اٹھایا۔