زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
قومی قوت و عزت کے عناصر کی تقویت حکومتوں کا اہم فریضہ

قومی قوت و عزت کے عناصر کی تقویت حکومتوں کا اہم فریضہ

حکومتوں کا اہم فریضہ قومی قوت و عزت کے عناصر کی تقویت ہے۔ جن میں سب سے اہم قوم کا جوش و جذبہ اور اتحاد و یکجہتی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی سے صدر مملکت اور کابینہ کے ارکان کی ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی سے صدر مملکت اور کابینہ کے ارکان کی ملاقات

صدر مملکت مسعود پزشکیان اور ان کی کابینہ کے ارکان نے اتوار 7 ستمبر 2025 کو رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
اسلامی گھرانہ: جوانوں کی شادی کو آسان بنائیے

اسلامی گھرانہ: جوانوں کی شادی کو آسان بنائیے

میں جوانوں کے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ ان کی شادی کے عمل کو آسان بنائیں، سخت شرطیں ضروری نہیں ہے۔ ممکن ہے ایک نوجوان کی مالی حالت ابھی مناسب نہ ہو لیکن انشاء اللہ شادی کے بعد اللہ تعالی وسعت پیدا کردے گا۔ نوجوانوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں۔ جس قدر بھی ممکن ہے، معاشرے میں نوجوانوں کی شادی کا مسئلہ حل کریں، یہ ہمارے معاشرے کی دنیا و آخرت کے فائدے میں ہے۔ امام خامنہ ای 11 جولائی 2015
ایک بچی کے قتل کے لیے 335 گولیاں

ایک بچی کے قتل کے لیے 335 گولیاں

بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے فوجیوں نے 29 جنوری 2024 کو غزہ کے تل الہوا محلے میں ایک گاڑی پر، جس میں چھے سالہ فلسطینی بچی ہند رجب موجود تھی، 335 گولیاں ماریں  اور اسے قتل کر دیا۔
درس اخلاق: نماز، روح میں تازگی کا سبب

درس اخلاق: نماز، روح میں تازگی کا سبب

تمام شرعی واجبات کی ادائیگی اور تمام حرام کاموں سے دوری کا حکم، انسان کی روحانی جڑوں کی تقویت اور اس کے دنیا و آخرت کے تمام امور کی اصلاح کے لیے، چاہے وہ انفرادی اصلاح ہو یا اجتماعی۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس میں بعض عناصر کلیدی ہیں چنانچہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ان عناصر میں نماز سب سے بنیادی عنصر ہے۔ ملک کے جوان طبقے میں دوسروں سے زیادہ نماز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ نماز کے ذریعے ایک جوان کا دل روشن ہو جاتا ہے، امیدوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح تازہ ہو جاتی ہے، سرور و نشاط کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور یہ حالات زیادہ تر جوانوں کا خاصہ ہیں۔ امام خامنہ ای 19 نومبر 2008
قرآن کی روشنی میں: اچھے کاموں میں رقابت کیجیے

قرآن کی روشنی میں: اچھے کاموں میں رقابت کیجیے

قرآن حکیم میں کئی مقامات پر "یسارعُونَ فِي الْخَيْرات" کا ذکر ہے: اور بھلائی کے کاموں میں تیزی کرتے ہیں اور یہی لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔ (سورۂ آل عمران، آیت 114) گویا قرآن نے حقیقی معنوں میں فرمایا ہے کہ نیک کاموں میں اور مومنانہ تعاون میں باہمی مقابلہ آرائی اور سبقت سے کام لیجیے کہ آپ دوسروں سے پہلے اور بہتر شکل میں اقدام کر یں۔ یہ کام میری نگاہ میں بہت اہم ہے یعنی پیش قدمی، حتی یہ محرم میں کھانا کھلانا بھی، جو ان ایام میں بعض انجمنیں یا بعض افراد نذر کا اہتمام کرتے اور کھانا کھلاتے ہیں، اس طرح سے گھرانوں کی مومنانہ امداد کی جاسکتی ہے۔ انقلابی اقدامات اپنے حقیقی معنی میں در اصل یہ ہیں، جو ہونے چاہیے۔ امام خامنہ ای 22 جولائی 2020
رہبر انقلاب پورے یقین اور اطمینان سے قدم اٹھاتے ہیں

رہبر انقلاب پورے یقین اور اطمینان سے قدم اٹھاتے ہیں

حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے قدم پورے یقین و اطمینان کے ساتھ ہیں اور یہ بات ان رہنماؤں کی خصوصیات میں سے ہے جو الہی راہ پر چلتے ہیں اور ہدف پر نظر رکھتے ہیں۔
طاقت کے بل پر صلح یعنی یا سرینڈر یا جنگ؛ کون غیرت مند اسے مانے گا؟

طاقت کے بل پر صلح یعنی یا سرینڈر یا جنگ؛ کون غیرت مند اسے مانے گا؟

جب امریکی دباؤ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا نظریہ "طاقت کے بل پر امن و صلح" ہے، تو طاقت کے بل پر امن و صلح کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے سرینڈر ہو جانا۔ یا تو سرینڈر یا پھر جنگ۔ کون غیرت مند انسان اس سرینڈر ہونے کو تسلیم کرے گا؟
اسلامی گھرانہ: شوہر و زوجہ اپنے پاکیزہ عشق کی حفاظت کریں

اسلامی گھرانہ: شوہر و زوجہ اپنے پاکیزہ عشق کی حفاظت کریں

زندگی کی حقیقتوں سے بالاتر، آرزوئیں، محبتیں اور انسانی جذبات و احساسات زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا کردار بھی دوسروں کی پیروی، دیکھا دیکھی یا دوسرے درجے کا نہیں بلکہ اصلی (اور فطری) ہے۔ یہ اس نہایت ہی قوی و مستحکم عبادت کے لیے ایک بنیاد کا کام کر سکتا ہے۔ میاں بیوی دونوں کو اپنے اپنے مقام سے آشنا ہونا چاہیے، دونوں ایک دوسرے کو ہمیشہ محبت سے سرشار نگاہوں سے دیکھیں اور اس عشق کی حفاظت کریں کیونکہ یہ ختم اور زائل ہونے والی چیز نہیں ہے۔ دوسری تمام (قیمتی) چیزوں کی طرح اس کی حفاظت کریں کہ زائل نہ ہونے پائے۔ امام خامنہ ای 12 مارچ 2000
ایک عالمی رہنما نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین فضول ہیں

ایک عالمی رہنما نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین فضول ہیں

سلامتی کونسل کے رکن ایک رہنما سے میں نے کہا کہ جب وہ ہم پر حملہ کرتے ہیں اور آپ لوگ جو سلامتی کونسل کے رکن بھی ہیں، کچھ نہیں کرتے، تو پھر یہ بین الاقوامی قوانین کس لیے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ قوانین فضول ہیں، اس لیے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم کا مطلب طاقت ہے!