27 ستمبر 2021 کو منعقد ہونے والے عزاداری کے پروگرام میں رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو میں عاشور سے اربعین یعنی دس محرم سنہ 61 ہجری سے 20 صفر 61 ہجری تک کے دورانئے کو تاریخ اسلام کا حد درجہ اہم دورانیہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر عاشورا جذبہ ایثار و قربانی کے ساتھ جہاد کا نقطہ کمال تھا تو یہ چالیس دن بیان و چشم کشا تشریح کے ذریعے جہاد کے اوج کے ایام تھے۔ آپ نے فرمایا کہ خاندان پیغمبر کی اس تحریک نے کربلا کے واقعے کو ابدیت عطا کر دی۔ یہ بیان و تشریح اس قربانی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والی کڑی تھی۔

رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب حسب ذیل ہے؛

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ خداوند متعال کا بہت شکر گزار اور ممنون ہوں کہ اس نے یہ توفیق عطا کی کہ آج بھی پچھلے برسوں کی طرح کسی نہ کسی شکل میں آپ جوانوں کی خدمت میں حاضررہو سکوں اور اس پروگرام میں آپ کے پاکیزہ اور منور قلوب کی روشنی سے بہرہ مند ہوں۔

السلام علی الحسین و علی علی بن الحسین و علی اولاد الحسین و علی اصحاب الحسین الذین بذلو مھجم دون الحسین علیہ السلام۔

عاشورا سے لے کر اربعین تک کے یہ جو چالیس دن گزرے ہیں، یہ تاریخ اسلام کے بہت ہی اہم دورانیوں میں سے ایک ہے۔ عاشورا کا دن اہمیت کے عروج پر ہے اور یہ چالیس دن بھی، جو عاشورا اور اربعین کے درمیان ہیں، عاشورا جیسی ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر عاشورا ایثار و قربانی کے جذبے کے ساتھ - جان کی قربانی اور عزیزوں، بچوں اور دوستوں کی قربانی کے ساتھ جہاد کا نقطۂ کمال ہے، تو یہ چالیس دن مقصد کربلا کی توضیح و تشریح کے ذریعے جہاد کے اوج کے ایام ہیں۔ اگر یہ چالیس دن نہ ہوتے، اگر حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم علیہا السلام اور حضرت امام سجاد علیہ السلام کی عظیم تحریک نہ ہوتی، تو شاید (زیارت اربعین کا) یہ فقرہ سامنے نہ آتا کہ "لیستنقذ عبادک من الجھالۃ و حیرۃ الضلالۃ"(1) (انھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی میں سرگردانی سے نجات دیں۔) زینب کبری سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین کی قیادت میں آل رسول کی یہ عظیم تحریک اور یہ غیر معمولی صبر ہی تھا جس نے کربلا کے واقعے کو لافانی بنا دیا اور حقیقی معنی میں ان کی تشریح، اس قربانی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والی تھی۔

آپ عزیز نوجوان اور طلباء، جو حقیقی معنی میں قوم کے دل کا سکون اور ملک کے مستقبل کی امید ہیں، تشریح اور بیان کے مسئلے کو اہمیت دیجیے۔ بہت سے حقائق ہیں جنھیں بیان کیا جانا چاہیے۔ اس گمراہ کن سازش کے مقابلے میں، جو ہر طرف سے ایرانی قوم کے خلاف رچی جا رہی ہے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے مقابلے میں، جو ایران اور اسلام کے دشمنوں کے بڑے اہداف میں سے ایک ہے اور اسی طرح لوگوں کے خیالات کو ابہام میں باقی رکھنے اور ان کے ذہنوں خاص طور پر جوانوں کے ذہنوں کو بہکانے کی کوششوں کے مقابلے میں، توضیح و تشریح کا اقدام، دشمن کی اس چال اور اس کے اس قدم کو ناکام بنانے والا ہے۔

آپ میں سے ہر ایک، ایک ذمہ داری کے طور پر ایک چراغ کی طرح، ایک نور کی طرح اپنے آس پاس کے ماحول کو روشن کر دے۔ بحمد اللہ افکار کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے آج میدان کھلا ہوا ہے۔ یہ عمومی فضا جو، ممکنہ طور پر مشکلات پیدا کرنے کے ساتھ ہی، کچھ بڑی برکتوں کی بھی حامل ہے؛ اس کی مدد سے آپ صحیح افکار کو پھیلا سکتے ہیں، سائبر اسپیس سے استفادہ کر کے اعتراضات کے جواب دے سکتے ہیں، پیدا کئے جانے والے ابہام کا جواب دے سکتے ہیں اور صحیح معنوں میں اس سلسلے میں جہاد کر سکتے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں حتمی اور بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کام میں اخلاقی روش کی پیروی کرنی چاہیے۔ اُس کام سے پوری شدت سے پرہیز کرنا چاہیے جو کچھ لوگ سائبر اسپیس میں، پرنٹ میڈیا میں، مقالوں میں یا ادھر ادھر انجام دیتے ہیں اور نامناسب باتیں کرتے ہیں، الزام تراشی کرتے ہیں، فریب دیتے ہیں اور رائے عامہ سے دروغ گوئي کرتے ہیں۔ حقائق کو ٹھوس دلائل، سنجیدہ باتوں، مکمل عقلانیت سے وابستگی اور انسانی جذبات نیز اخلاقیات کے ساتھ سامنے لانا چاہیے۔ آج ہم سب کو اسی میدان میں آگے بڑھنا چاہیے؛ ہر ایک کو کسی نہ کسی طریقے سے اور اس راہ میں اس کا جو حصہ ہے، اس کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

مجھے امید ہے کہ خداوند متعال ان شاء اللہ آپ سب کو کامیاب کرے گا۔ بحمد اللہ ہمارے آج کے نوجوان پوری طرح لیس ہیں؛ افکار سے لیس ہیں، عقلانیت اور منطق سے لیس ہیں، فراواں علوم سے لیس ہیں اور وہ ان میدانوں میں بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو تیار کیجیے اور ان وسائل کو اپنے اندر بڑھاتے رہیے، حقیقی معنی میں اپنے آپ کو لیس کیجیے اور اس میدان میں آ جائیے: وضاحت اور تشریح کے راستے پر، یعنی اس راستے پر جسے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے ان چالیس دنوں میں طے کیا۔ ان چالیس دنوں کی عظمت اس کام کی وجہ سے ہے جو حضرت زینب، حضرت امام زین العابدین اور ان کے ساتھ موجود دیگر افراد نے انجام دیا اور مصائب برداشت کیے۔ اگر ہم خطیبوں کی زبان میں کہنا چاہیں تو در حقیقت اربعین کے دن زینب کبری نے آ کر امام حسین علیہ السلام کو اپنے کاموں کی تفصیلات بتائیں کہ ہم نے یہ کام انجام دیے، اس طرح سے گئے، اس طرح سے (مصائب) برداشت کیے اور اس طرح سے تشریح کی اور دشمنوں کی قلعی کھول دی۔

مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ خداوند عالم آپ سبھی کو کامیاب کرے گا۔ امام حسین کا راستہ، مبارک راستہ ہے، شیریں راستہ ہے، کامیاب راستہ ہے، وہ راستہ ہے جو منزل تک پہنچاتا ہے۔ ان شاء اللہ آپ لوگ حسینی تحریک سے الہام حاصل کر کے اور حسینی تعلیمات سے استفادہ کر کے اس ملک کو حقیقی معنی میں سعادت کی چوٹیوں تک پہنچائيں گے؛ روحانی سعادت بھی اور مادی سعادت بھی؛ راستہ یہ ہے؛ راستہ یہی ہے۔ صحیح راستہ، حسینی تعلیمات، ائمۂ معصومین علیہم السلام اور قرآن و عترت کی تعلیمات کی روشنی میں آگے بڑھنے کا ہے۔ ان شاء اللہ خدا آپ کو کامیاب کرے، آپ کو توفیق عطا کرے، آپ کی عزاداری کو قبول کرے، ان پاکیزہ آنسوؤں اور منور اور پاک دلوں پر اپنے الطاف کی بارش کرے، ان شاء اللہ ہمیں بھی آپ جوانوں کے وجود کی برکتوں سے بہرہ مند کرے اور اس ملک کو آپ کے مجاہدانہ، منطقی اور ٹھوس اقدامات سے مزین کرے، ان شاء اللہ۔

مجھے خوشی ہے کہ آ ج بھی ہم آپ کی معیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ میں خداوند عالم سے امام خمینی کی پاکیزہ روح، شہیدوں اور خاص طور سے ہمارے عزیز شہید، شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی پاکیزہ ارواح اور حال ہی میں دار فانی کو الوداع کہنے والے گرانقدر عالم دین جناب حسن زادہ آملی مرحوم کے لیے رضوان الہی کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

(1) تہذیب الاحکام، جلد 6، صفحہ 113 (زیارت اربعین)