سوال: جناب ڈاکٹر پزشکیان! رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں خصوصی طور پر حکومت کی خدمات کی تعریف کی ہے اور حکومت کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔(1) اس کے بعد ایک دوسرے خطاب میں انھوں نے کہا کہ مشکلات اور کمیوں کے باوجود، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ان دو خطابات اور رہبر انقلاب کی ان دو باتوں کے پیش نظر، براہ کرم گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت کی اہم ترین عملی کوششوں کی ایک مختصر رپورٹ پیش کیجیے اور ملک کی پیشرفت کے عمل کو سامعین اور ناظرین کے لیے واضح کیجیے، بہرحال آپ صدر مملکت اور ملک کی انتظامیہ کے سب سے بڑے شخص کے طور پر اس پیشرفت کے عمل سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔
جواب: بسم اللہ الرحمن الرحیم. سب سے پہلے ہمیں رہبر انقلاب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اب تک، خواہ اعلانیہ نشستوں میں ہوں یا خصوصی نشستوں میں، انھوں نے حکومت کی مکمل حمایت کی ہے اور اگر ان کی حمایت اور ہدایات نہ ہوتیں، تو یقیناً ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا؛ لہذا یہ قابل تعریف ہے۔
اس وقت ہم جس چیز کے درپے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اسے درست کریں، وہ عدم توازن کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس سلسلے میں بات کریں تو کہنا پڑے گا کہ ملک میں جو روش چل رہی ہے، وہ ایسی روش ہے جسے بہت سے شعبوں میں بڑے عدم توازن کا سامنا ہے۔ اینرجی کا مسئلہ، جو بالکل شروع میں ہی سامنے آ گیا تھا، پانی کا مسئلہ، مالی مسائل، انتظامی مسائل، سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی مسائل، یہ سب ایسے مسائل ہیں جن میں ہم وسیع پیمانے پر مشکلات سے دوچار ہیں۔ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو 20 ہزار میگاواٹ توانائی کا خسارہ تھا، یہ توانائی کا خسارہ برسوں میں پیدا ہوا تھا اور فطری طور پر ایک طرف تو اس کا استعمال بڑھ رہا تھا اور دوسری طرف توانائی کی خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی اور یہ وہ سال بھی تھا کہ جس میں بارش کم ہوئی تھی۔ پچھلے برسوں کی نسبت اوسط بارش میں قریب چالیس فیصد کمی واقع ہوئی تھی، ڈیموں میں پانی نہیں تھا۔ ہمارے پاس قریب 14 ہزار میگاواٹ آبی بجلی تھی اور ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہم اس سے بھی پوری طرح فائدہ نہ اٹھا سکے، یعنی ہمارا توانائی کا خسارہ قریب 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ اب اسی کے ساتھ جنگ بھی تھی اور جنگ میں بھی ہمیں مسائل حل کرنے تھے۔
اس عدم توازن کے بارے میں جو کوشش کی گئی وہ یہ تھی کہ ایک طرف تو ہم نے اخراجات اور مصرف میں کمی یا کنٹرول شروع کیا اور دوسری طرف سب سے تیز راستہ جس تک ہم پہنچ سکتے تھے اور ضروری توانائی فراہم کر سکتے تھے، وہ شمسی توانائی کے پینل تھے جو ماحولیاتی اعتبار سے بھی بہت قیمتی ذریعہ ہیں، اس طرح کہ شمسی توانائی ہر ہزار میگاواٹ میں، تقریباً دس لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔ ہم اس سال تک تین ہزار میگاواٹ سے زیادہ پینلز کو توانائی کی پیداوار میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ گزشتہ برسوں میں صرف ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی تھی۔ یہ عمل جاری ہے، کل پھر تقریباً آٹھ سو میگاواٹ کے شمسی پینلز کو بجلی کی پیداوار کے عمل میں شامل کریں گے اور یہ کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، چنانچہ ہر ہفتے تقریباً تین سو میگاواٹ شمسی پینل کام کر رہے ہیں اور جو معاہدے کیے گئے ہیں وہ تقریباً اسی ہزار میگاواٹ کے ہیں، یعنی اگر ہم اس روش کو آگے بڑھا سکیں تو فوسل ایندھن کے استعمال کو بہت زیادہ کم کر دیں گے۔ دوسری طرف ہم نے ایسے پاور پلانٹ بنائے تھے جو کمبائنڈ سائیکل والے تھے مگر ان میں صرف گیس استعمال ہوتی تھی۔ ہمارے پاس تقریباً سات ہزار میگاواٹ کمبائنڈ سائیکل والی توانائی ہے جس میں سے ہم تین ہزار میگاواٹ کو گرڈ میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اب بھی چار ہزار میگاواٹ باقی ہے جس پر کام ہو رہا ہے اور اس میں اب گیس کی ضرورت نہیں بلکہ بھاپ سے بھی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بجلی کے استعمال کا عمل ہر سال تقریباً پانچ چھے فیصد بڑھ جاتا تھا اور پانچ چھے فیصد کا مطلب ہے تین چار ہزار میگاواٹ اضافی ضرورت۔ جو ہدایات اور تجاویز دی گئيں اور جو پروگرام تیار کیے گئے ان سے ہمارے یہاں پانچ فیصد کمی کی شرح بھی رہی۔ نہ صرف یہ کہ پانچ فیصد کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہم پانچ فیصد کمی کرنے میں بھی کامیاب رہے، یعنی تقریباً تین چار ہزار میگاواٹ پر ہم نے کنٹرول کیا۔ دوسری طرف جو مائنرز موجود تھے انھیں کنٹرول کر کے بھی ہم تقریباً دو ہزار میگاواٹ استعمال میں کمی کر سکے۔ بنابریں ان کاموں سے ہم کسی حد تک توانائی کے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہے۔ البتہ یہ کام اب بھی جاری ہیں اور ہم کوشش کریں گے کہ ان شاء اللہ آنے والی گرمیوں میں ہم بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اس شکل میں سامنا نہ کریں جیسا کہ اس سال تھا، سوائے اس کے کہ خدا نخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جائے یا کوئی لائن خراب ہو جائے یا کوئی فیکٹری بند ہو جائے لیکن شمسی پینلز کی تیاری اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ ان شاء اللہ توانائی کی تلافی کے لیے کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔
ہماری اگلی بحث ان گیسوں کے کنٹرول کے بارے میں تھی جو جل رہی تھیں۔ ان گیسوں کے کنٹرول سے حاصل ہونے والا منافع تقریباً پانچ چھے ارب ڈالر ہے، اگر ہم اس پر قابو پا سکیں تو بہت زیادہ بچت ہوگی۔ ہم اب تک روزانہ تقریباً 15 ملین کیوبک میٹر گیس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے تمام ادوار میں مجموعی طور پر صرف 9 ملین کیوبک میٹر گيس کو ہی کنٹرول کیا جا سکا تھا۔ اب باقی گيس فیلڈز میں جہاں گیس جل رہی ہے، ہم نے اس معاملے میں مختلف کنٹریکٹرز کے ساتھ سمجھوتے کیے ہیں اور اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ بھی سمجھوتے کیے جا سکیں جن کے ساتھ اب تک سمجھوتہ نہیں ہوا ہے، ہم نے میٹنگز کی ہیں اور ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہم اپنا کام انجام دے سکیں۔
اگر کوریڈورز کی بات کی جائے، جو بہت اہم ہے، تو ہم آستارہ-رشت کوریڈور، شلمچہ-بصرہ کوریڈور اور بہت زیادہ امکان ہے کہ زاہدان-چابہار کوریڈور کو اس سال مکمل کریں گے۔ اب تک شاید دس بارہ ہزار ارب تومان سے زیادہ رقم اس سلسلے میں خرچ کی جا چکی ہے اور غالباً اتنی ہی رقم ہمیں پھر ادا کرنی ہوگی۔ آج بھی اسی معاملے پر حکومت کا اجلاس ہوا اور اگر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے تو خدا کے فضل و کرم سے، ہم ان کوریڈورز کام کام اس سال مکمل کر لیں گے۔ شلمچہ-بصرہ کوریڈور کے بارے میں اہم کام کر لیے گئے ہیں اور اس کے ستون کھڑے ہو چکے ہیں۔ اس کوریڈور کا سب سے مشکل حصہ وہ تھا جہاں راستہ اس دریا سے گزرنا تھا جو ہمارے اور بصرہ کے درمیان ہے، وہاں پانی کے اندر لگائے گئے ستونوں پر قریب ساٹھ ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے، اس کے علاوہ بارودی سرنگوں کی صفائی جو کرنی تھی وہ ہم نے کر دی۔ البتہ عراقی فریق کو بھی کچھ کام کرنے ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ آستارہ-رشت کوریڈور بھی ایک ایسا منصوبہ تھا جو ادھورا رہ گیا تھا اور ہم اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ جب ہم آئے تو 160 کلومیٹر راستے میں سے صرف 30 کلومیٹر ہی لوگوں سے لے پائے تھے، لیکن اب ہم نے قریب 115 کلومیٹر حاصل کر لیا ہے، مطلب یہ کہ ہر ہفتے حکومت کی ملکیت میں آنے والی زمینوں کا رقبہ بڑھ رہا ہے اور متعلقہ ذمہ داروں نے وعدہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ اس سال کے آخر تک یہ منصوبہ مکمل کر لیں گے۔ ہم ہر ہفتے اس پروجیکٹ کو فالو اپ کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ پورے راستے کا مالکانہ قبضہ حاصل کر سکیں، اس پروجیکٹ کے لیے قرض بھی موجود ہے اور اس قرض کے مطابق ہی یہ منصوبہ شروع ہوگا اور اب ماہرین آ چکے ہیں اور یہ کام انجام دے رہے ہیں۔
پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات میں، بہت سے میدانوں میں، خواہ ثقافتی ہوں، علمی ہوں یا معاشی، فروغ آيا ہے۔ آذربائیجان، ازبکستان، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، عراق، ترکیہ کے ساتھ اور خلیج فارس میں بھی عمان، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کے ساتھ رابطوں کا عمل بہت بہتر ہوا ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود، ہمارے بین الاقوامی رابطوں کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ چین، روس، قزاقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ اب ہم راستوں کو بہتر بنا رہے ہیں۔ کوریڈورز اب حکومت کی ترجیح ہیں۔ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کے راستوں کے لیے ضروری وسائل مہیا کر دیے گئے ہیں اور اگلے سال ہم بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے، سڑک، ٹرین اور ریل کی تعمیر کے لحاظ سے بھی اور ویگن، ڈیزل اور ضروری آلات و وسائل کے لحاظ سے بھی۔ ہم ان تمام کاموں کو تندہی سے آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ مسائل حل کر سکیں۔
جہاں تک سماجی مسائل کی بات ہے تو مسجد کو محور بنانے، محلے کو محور بنانے اور عوام کی مشارکت کے سلسلے میں بڑے بڑے کام کیے گئے ہیں۔ البتہ چونکہ یہ سماجی مسائل ہیں، اس لیے شاید انھیں اعداد و شمار کی شکل میں بیان نہ کیا جا سکے۔ اسی طرح یہ مسائل وقت طلب ہیں اور عام طور پر کام کی روش میں تبدیلی آسان کام نہیں ہے۔ اس سلسلے میں رہبر انقلاب نے ہمارے عزیز بھائی حاج آقا علی اکبری کو حکم دیا کہ وہ ہم آہنگی کریں اور انھوں نے تقریباً دس ہزار مساجد کو اس عمل میں شامل کر لیا۔ ہم نے اس سلسلے میں حفظان صحت کے اپنے مراکز کو شامل کیا، اسکولوں کو شامل کیا اور تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بڑا کام ہوا ہے، یعنی عوام کی مشارکت سے ہم نے کنٹینرز میں چلنے والے تمام اسکولوں کو ختم کیا، پتھر کے بنے ہوئے اسکولوں کو ختم کیا اور جہاں اسکول نہیں تھے، وہاں اسکول تعمیر کیے گئے۔ یہ سب عوام کی مدد، شعبوں کے آپسی تعاون اور خیر لوگوں کے تعاون سے ہوا۔ ایک کروڑ مربع میٹر سے زیادہ جگہ پر مدرسوں کی تعمیر یا تعمیر نو ہوئی اور اب بھی تیزی سے تعمیر ہو رہی ہے۔ اسکولوں کی تعمیر کے علاوہ، اسکولوں کے اندر ہارڈ وئير کے معاملے پر بھی توجہ دی گئی کہ ہمارے بچوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس ماحول میں مناسب تعلیم حاصل کر سکیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم، ہمارے کلاس رومز میں تعلیم دینے کا طریقہ اور تدریس کا انداز ہے۔ اب ہمارے کلاس رومز کی ترتیب بدل گئی ہے، تدریس کا انداز بدل گیا ہے اور ان تعلیمی طریقوں میں روز بروز بہتری آئے گی اور آ رہی ہے۔ البتہ ہماری زیادہ توجہ سرکاری اسکولوں اور پسماندہ علاقوں کے اسکولوں پر ہے اور ہم اس تعلیمی انصاف کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا ہم ذکر کرتے ہیں۔
حفظان صحت اور علاج معالجے کی بات کریں تو ہم نے خاندانی ڈاکٹر اسکیم کا آغاز کیا ہے اور فی الحال ایک مشترکہ زبان اور نظر پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انھیں کیا کرنا چاہیے؟ یہ بات نظریاتی طور پر واضح ہے لیکن عملی طور پر، اکثر وہ بات جو کہی جاتی ہے نافذ نہیں ہوتی۔ ہماری جو نشستیں ہوئیں، ان میں تقریباً 63 شہر اور علاقے منتخب کیے گئے ہیں جو یہ کام کریں گے اور ان میں سے پانچ شہروں میں، پورے ضلع کو منتخب کیا گیا ہے۔ بہرحال، کام کا طریقہ واضح ہے، انھیں صرف یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کرنا ہے۔ مسئلہ بہت واضح ہے۔ خاندانی ڈاکٹر اسکیم بتاتی ہے کہ کون، کس گروپ کا ذمہ دار ہے، اس گروپ کو کون سی خدمات فراہم کی جانی چاہیے اور آخر میں اس شخص کو، جو خدمات فراہم کر رہا ہے، پیسے کیسے ادا کیے جائیں۔ اگر ہم یہ کام کریں تو پورے ملک میں کوئی بھی فرد حکومت کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہے گا کیونکہ وہ تمام لوگ جو موجود ہیں، خواہ غریب ہوں، مالدار ہوں، دور دراز علاقے میں ہوں یا قریب ہوں، واضح ہوگا کہ کون کس طرح اور کس معیار کی خدمات انھیں فراہم کرے گا، بغیر کسی مالی تعلق کے۔ اگر ہم یہ کام کر سکیں تو حفظان صحت اور علاج معالجے کے نظام میں انصاف کو حقیقی معنوں میں نافذ کر سکیں گے۔ البتہ روش کی یہ تبدیلی آسان کام نہیں ہے اور یہ باتیں خود بھی بحث طلب ہیں۔
جہاں تک مالی امور اور پیسوں کی بات ہے تو ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کے بہتر استعمال اور مینجمنٹ کا ادارہ قائم کیا ہے، اس کے اپنے خاص پروگرام ہیں۔ درحقیقت، ہم نے اس روایت کو توڑ دیا کہ پیٹرول کی قیمت کو چھوا نہیں جا سکتا۔ شروعات ہم نے خود سے کی، یعنی اب سرکاری گاڑیوں میں فیول سبسڈی کارڈز نہیں ہیں اور انھیں آزاد ریٹ پر خرید کر استعمال کرنا ہوگا۔ دوسری بات فری ٹریڈ علاقوں یا فری زونس کی ہے، اسی طرح کچھ دوسرے موضوعات بھی ہیں۔ فی الحال باقی معاملات میں ہم نے مداخلت نہیں کی لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مضافاتی ٹرینوں کے مسائل درست ہوں، عوامی نقل و حمل میں بہتری آئے، پھر ہم بین شہری ٹرینوں کے کرایوں میں بھی تبدیلی کر سکیں۔ سب سے اہم مسئلہ جس پر ہم کام کر رہے ہیں وہ عوام کی معیشت ہے، یعنی یہ وہ مسئلہ ہے جس پر شاید ہر ہفتے ہم حکومت میں اور ان عزیزوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس کے لیے وسائل کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ ان کے لیے وسائل وجود میں آئيں اور ان وسائل کے مطابق ہم عوام کی معیشت کو بہتر بنا سکیں۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! آپ صبح ساڑھے چھے بجے اٹھتے ہیں اور سات بجے کام پر ہوتے ہیں، رات کو کس وقت سوتے ہیں؟
جواب: کچھ طے نہیں ہے۔ ہم کئی بار صبح پانچ بجے اٹھ جاتے ہیں اور رات بارہ بجے واپس آتے ہیں۔
سوال: میں نے یہ اس لیے پوچھا کہ کچھ مغربی میڈیا آپ کے بعض موقفوں اور باتوں کو توڑ مروڑ کر یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور صدر مملکت لڑنے اور مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔ ان معاندانہ اور عداوت آمیز دعوؤں پر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا کیا جواب ہے؟
جواب: دیکھیے! ان تمام تجزیوں کی بنیاد پر جو انھوں نے کیے تھے، انھیں یقین تھا کہ اگر صہیونی حکومت ایران پر حملہ کرے تو نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ایسا کیوں نہیں ہوا؟ دراصل ان کا تمام تر اندازہ یہ تھا کہ اگر وہ حملہ کریں تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، مسائل پیدا ہوں گے، لوگوں کی معیشت مشکل میں پڑ جائے گی اور مختلف خدماتی معاملات درہم برہم ہو جائیں گے۔
سوال: البتہ جنگ کے دنوں میں بھی حکومت کی خدمات منظم طریقے سے جاری تھیں۔
جواب: پہلے سے بہتر تھیں کیونکہ اختیارات گورنروں کے پاس تھے، مثلاً ان بارہ دنوں کے دوران انھوں نے ہمارے کسٹمز میں دس ملین ٹن سے زیادہ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ وہی ڈرائیور، جنھیں کچھ باتوں پر اعتراض تھا، مردانہ وار کام کے میدان میں آ گئے، ان لوگوں نے، جنھیں اعتراض تھا، دل و جان سے نظام اور ملک کی ارضی سالمیت کی حفاظت کی، یعنی درحقیقت انھوں نے دشمن کے مقابلے میں داخلی یکجہتی بھی دکھائی، اپنی موجودگی بھی دکھائی اور اپنی ہم آہنگی کا بھی مظاہرہ کیا۔ یہ بہت اہم بات ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت والوں اور سیاست دانوں کو، عوام پر بھروسہ کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ مہربان ہونا چاہیے۔ ہماری تمام تر کوشش یہ ہے کہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی ہم سے ممکن ہو، ہم عوام کی خدمت کریں سچائی کے ساتھ اور بغیر کوئی احسان جتائے اور ان لوگوں کی خدمت کے علاوہ، کم از کم میں اپنے طور پر تو یہی کہوں گا کہ، ہم کوئی دوسری چیز نہیں چاہتے۔ لوگوں نے بھی تمام تر دباؤ کے باوجود بہت ساتھ دیا۔ دشمنوں کا اندازہ کا یہ تھا کہ اگر وہ حملہ کریں تو ملک میں ہنگامہ برپا ہو جائے گا لیکن لوگوں نے اپنے ایران کی، اپنے ملک کی، اپنے دین کی، اپنی ثقافت کی اور اپنی قیادت کی حفاظت کی۔ سنہ 2022 میں ایک واقعہ پیش آیا، کچھ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور قیادت کی بے احترامی کی؛ لیکن سنہ 2025 میں سب سڑکوں پر نکل آئے اور کہا کہ ہماری جان رہبر پر فدا۔ کیا ہوا؟ لوگوں کی یہ سوچ اور اس سماجی سرمائے کی واپسی بہت حوصلہ افزا تھی اور ہم اس قوم کی جتنی خدمت کریں، کم ہے۔ لہذا مجھے امید ہے کہ ہم اپنی اس عزیز قوم کے سامنے شرمندہ نہ ہوں گے۔
سوال: ان معاندانہ دعوؤں پر آپ کا کیا جواب ہے جو میں نے بیان کیے؟ مثلاً آپ کے بارے میں حال ہی میں مغربی میڈیا نے ایسے تجزیے شائع کیے ہیں کہ مسعود پزشکیان کہتے ہیں کہ میں نہیں کر سکتا! حالانکہ یہ ان کاموں کے بالکل برعکس ہے جو آپ کر رہے ہیں۔
جواب: البتہ میں نے بارہا کہا ہے کہ میں نہیں کر سکتا، بلکہ "ہم" کر سکتے ہیں۔ ملک کے مسائل ایسے نہیں ہیں کہ میں تنہا انھیں حل کر سکوں، یہ میں نے بارہا کہا ہے، لیکن ہم پوری طاقت کے ساتھ، ان مسائل، پابندیوں اور دباؤ کو جو وہ ڈال ہیں، پیچھے چھوڑ دیں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم ساتھ ہوں اور وہ ہمیں گرا سکیں۔ یہ جو میں کہتا ہوں کہ ہم ایک ساتھ ہوں، متحد ہوں، اس لیے ہے کہ میرا یقین اور اعتقاد یہی ہے۔ خواہ ملک کے اندر ہو یا ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ، اگر ہم متحد ہوں گے تو امریکا خطے کے ممالک کا اس طرح استحصال نہیں کر پائے گا۔ یہ ہم ہیں جو مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ البتہ جو مسائل موجود ہیں، وہ اتنی آسانی سے حل ہونے والے نہیں ہیں۔ انھوں نے حساب کتاب کیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ بغیر حساب کتاب کے ہی آ گئے ہوں۔ معاشی لحاظ سے بھی، عسکری لحاظ سے بھی، سیاسی اور سیکیورٹی اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے بھی، وہ ہر لحاظ سے کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ وہ منصوبہ بناتے ہیں کہ مثال کے طور پر ایران کو 36 مہینے بعد گر جانا چاہیے! کل تک وہ کہتے تھے کہ بارہ دنوں میں گر سکتا ہے، اب کہہ رہے ہیں کہ چھتيس مہینے۔ اگر ہم ساتھ ہوں تو چھتیس ہزار سال میں بھی وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ ساتھ رہنے کے لیے ہمیں ایک مشترکہ زبان اور سوچ پر پہنچنا ہوگا، ہمیں رہبر انقلاب کی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا اور اختلافات کو چھوڑنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ ہر اختلاف، حکومت کے عمل میں بے ترتیبی کا سبب بنتا ہے۔ انھوں نے راستے ہمارے اوپر بند کر دیے لیکن ہم راستہ ڈھونڈ لیں گے اور اگر کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ سکے تو کوئی راستہ بنا لیں گے۔ اگر ہم ساتھ ہوں تو یہ ممکن ہے لیکن اگر ہم آپس میں لڑیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عمومی اور اجتماعی بحث ہے اور ہمیں اسی فریم ورک میں چلنا ہوگا اور ہم آہنگی سے عمل کرنا ہوگا۔
سوال: رہبر انقلاب نے ایک بار کہا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود، نظام کی کچھ پالیسیاں اور بڑے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں اور مسعود پزشکیان صاحب، نئے صدر کی حیثیت سے پچھلی حکومت کے کچھ منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں مکمل کر رہے ہیں۔(2) براہ کرم ان میں سے کچھ منصوبوں کے بارے میں وضاحت فرمائیں اور بتائیں کہ کیا وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں یا آپ کی تشخیص کے مطابق ان کی راہ میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔
جواب: دیکھیے! میرے خیال میں ہمارا مسئلہ اب تک یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی آتا تو اپنے لیے ایک پروگرام تیار کرتا تھا حالانکہ اگر ہم یہ تسلیم کریں کہ ہمارے پاس ایک جنرل پالیسی ہے تو ہمارے پاس ایک ویژن اور بیس سالہ پروگرام ہے۔ رہبر انقلاب نے اس بیس سالہ دستاویز میں فرمایا تھا کہ ہمیں سنہ 2025 میں کہاں ہونا چاہیے۔ اگر ہم ان پالیسیوں پر عمل کرتے تو کیا ہم وہاں ہوتے جہاں اب ہیں؟ ہم وہاں کیوں نہیں ہیں؟ اس لیے کہ جب بھی کوئی آیا، اس نے سوچا کہ اس کے پاس پروگرام ہے، حالانکہ اعلی قیادت کے پاس پروگرام تھا، اس کی پالیسی واضح تھی اور جو بھی کوئی آتا اسے اس پروگرام اور پالیسی پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ انتخابات کے زمانے میں بھی ہمارے ساتھ لوگ جو بحث کرتے تھے وہ اسی پر ہوتی تھی کہ تمھارے پاس پروگرام ہی نہیں ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ملک کی کوئی پالیسی ہو، کوئی پروگرام ہو اور کوئی آ کر ایک دوسرا پروگرام دے دے۔ میں اس پروگرام کو، جس پر انھوں نے ان پالیسیوں کے تناظر میں عمل درآمد کیا تھا، چھوڑ کر، ایک دوسرا پروگرام اور ایک دوسرا راستہ نہیں چن سکتا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود، ہم پوری طاقت کے ساتھ اس راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وہ تمام کام بھی جو پہلے سے موجود تھے اور ہم نے ان کا افتتاح کیا، خواہ رہائش کے سلسلے میں ہوں، سڑکوں، ریلوے یا پانی اور پانی نکاسی کے ادھورے کاموں کے سلسلے میں، وہاں بھی ہم نے اعلان کیا کہ یہ کام ان کا تھا، ہم نے افتتاح کیا ہے؛ شاید وہ اسّی فیصد تک پہنچے تھے، بیس فیصد ہم نے آگے بڑھایا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم ایسے کام کر رہے ہیں جو دوسروں نے نہیں کیے، بلکہ اصل میں ہم اس راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو انھوں نے شروع کیا تھا اور اب ہم ان کی ترجیح بندی بھی کر رہے ہیں۔ ہمارے تقریباً سات ہزار ارب تومان کے منصوبے ہیں جو یوں ہی پڑے ہوئے ہیں اور یہ بات مینجمنٹ کے لحاظ سے بالکل قابل قبول نہیں ہے۔ ہم جس صوبے میں بھی جاتے ہیں، ہر منظور شدہ منصوبے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کام کرتے ہیں اور اسے نافذ کر رہے ہیں۔ آپ تحقیق کریں، معلوم کریں اور دیکھیں کہ ان صوبوں میں جہاں ہم گئے ہیں، کیا کسی ایک میں بھی ہمارا کوئی منظور شدہ منصوبہ ہے جسے ہم نے نافذ نہ کیا ہو۔ کچھ جگہوں پر جو کچھ کہا گیا اور لکھا گیا ہے، اس کا سو فیصد نفاذ ہو رہا ہے۔ ہمیں ایسے وعدے نہیں کرنے چاہیے جنھیں ہم پورا نہ کریں یا پورا نہ کر سکیں۔ بنابریں اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ منصوبوں کو ترجیح کے مطابق، پوری طاقت اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
سوال: براہ کرم اس کی کچھ مثالیں دیں۔
جواب: مثال کے طور پر مہر ہاؤسنگ اسکیم، ہم نے محروموں کے لیے پچاس ہزار سے زیادہ مکانات کے علاوہ جو مکانات ادھورے تھے، انھیں مکمل کیا۔ آب رسانی کی اسکیموں کے سلسلے میں، جس راستے سے طالقان کا پانی تہران تک پہنچنا تھا، ایک بڑا منصوبہ تھا، ہم نے اس کے لیے فنڈز دیے اور اسے مکمل کیا اور یہ وہی راستہ تھا جو وہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر زاہدان-چابہار کوریڈور کو انھوں نے شروع کیا تھا، ہم اسے مکمل کر رہے ہیں، یہاں تک کہ آستارہ-رشت کے راستے کو بھی انھوں نے شروع کیا تھا لیکن ہم پوری طاقت کے ساتھ اسے مکمل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب بوشہر میں موجود جوہری توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن سے تقریباً دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ ان پر کام کر رہے ہیں۔ البتہ اس میں وقت لگے گا اور یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ہم نے اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں شروع کی ہے، یہ تمام وہ کام ہیں جو پہلے سے موجود تھے اور ہم اسی راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! رہبر انقلاب نے پانی، روٹی، خوراک، پیٹرول اور توانائی جیسے مختلف شعبوں میں فضول خرچی کے مسئلے پر بارہا توجہ دلائی ہے اور اسے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔ مختلف شعبوں میں فضول خرچی کو کم کرنے کے لیے آپ کی حکومت کا کیا پروگرام ہے؟
جواب: ہم یہ کام کر رہے ہیں اور رہبر انقلاب اپنی تجاویز اور حمایت سے ہماری بہت مدد کر رہے ہیں۔ جو تجاویز عمل میں آئی ہیں، ان سے پانی کا استعمال دس فیصد کم ہوا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دس فیصد، سالانہ کتنے ملین کیوبک میٹر بنتا ہے؟ اس طرف انھوں نے پانی کے استعمال میں کمی کی، بجلی کے استعمال میں بھی کمی کی۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ ہم تقریباً 180 ارب ڈالر، یعنی روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل اور گیس پیدا کرتے ہیں، قریب پندرہ لاکھ بیرل برآمد کرتے ہیں، باقی ہم استعمال کر رہے ہیں۔ اب اگر ہم دس فیصد بچت کریں ــ جو بہت آسانی سے ممکن ہے ــ تو روزانہ تقریباً نو لاکھ بیرل تیل اور گیس بنتا ہے۔ یہی دس فیصد، ان تمام کمیوں اور خلا کو پُر کر دے گا جو موجود ہیں، یعنی ان تمام مسائل کو حل کر دے گا، جن سے لوگ ناخوش ہیں؛ معیشت کو، راستے کو، شاہراہ کو اور آگے کے ترقیاتی منصوبوں کو۔ اس کے بجائے کہ ہم فرض کیجیے کہ نوے لاکھ بیرل تیل اور گیس جلائیں، اس کا دس فیصد بچائیں، یہ بہت بڑا عدد ہے۔
ہم یورپ سے دو تین گنا زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، جو گیس ہم استعمال کرتے ہیں، اس کا یورپ والوں کے ساتھ موازنہ ہی نہیں کی جا سکتا۔ گیس اور توانائی کے لحاظ سے ایران دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن اب ہم صنعتوں، پیٹروکیمیکلز اور کارخانوں کی گیس بند کر رہے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے صحیح طور پر مینیجمنٹ نہیں کیا، صحیح طور پر گیس تقسیم نہیں کی، ہم صحیح طور پر استعمال نہیں کر رہے۔ ضرورت نہیں کہ ہم اس طرح استعمال کریں جس طرح اس وقت کر رہے ہیں۔ میں نے ایسی رپورٹیں دیکھی ہیں کہ اسی امریکا میں، جب وہ کچھ بحران کا شکار ہوئے تھے، تو ان کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ اپنے گھروں کو 21 ڈگری سے زیادہ گرم نہ کریں۔ اب میرے دفتر کا درجۂ حرارت 21 ڈگری سے زیادہ نہیں۔ ہم درجۂ حرارت 28 یا 30 پر رکھتے ہیں، بلکہ اپنی قمیص بھی اتار دیتے ہیں، کبھی کبھی کھڑکی بھی کھول دیتے ہیں اور ہمارا ہیٹر یا ریڈی ایٹر بھی چل رہا ہوتا ہے! قرآن میں فرمایا گیا ہے: کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ خدا اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو فضول خرچی کرتا ہے۔ ہم ایک کمرے میں بیٹھے ہیں، چالیس بلب جلا رکھے ہیں! اس کی کیا ضرورت ہے؟ ہر شخص اگر تھوڑا سا کنٹرول کر لے تو ہم اپنے بہت سے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی کوئی ضرورت نہیں، بشرطیکہ ہم خود اپنے پاس موجود چیزوں کا صحیح طریقے سے مینیجمنٹ کر سکیں۔ ہمارا ملک سونے اور کانوں سے بھرا ہوا ہے لیکن یہ ہمارا رویہ ہے جو اس سونے اور کانوں کو کسی مقام تک پہنچا سکتا ہے یا نہیں پہنچا سکتا۔
سوال: مطلب یہاں کا ٹمپریچر 21 ڈگری سے اوپر نہیں جاتا؟
جواب: میں جب یہاں آیا تو میں نے اعتراض کیا کیونکہ جب ہم یہاں نہیں ہوتے تو انھیں بالکل حق نہیں ہے کہ اس جگہ کو گرم رکھیں۔
سوال: نہیں، گرم نہیں تھا ڈاکٹر صاحب۔
جواب: یہ کہتے تھے کہ ابھی آن کیا ہے، ورنہ ہم نے انھیں بند کر دیا تھا۔ ہم اپنے زیادہ تر کمروں میں اب ریڈی ایٹر (ہیٹر) نہیں چلاتے،؛ اس لیے کہ جب میں وہاں نہیں جاتا، تو پھر اس کے آن رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں ایک گھنٹے کے لیے وہاں جانا چاہتا ہوں، کیا 24 گھنٹے اس جگہ کو گرم رکھا جائے؟ میں اپنے کام ایک ہی جگہ انجام دیتا ہوں اور پھر اس کمرے سے دوسرے کمرے میں نہیں جاتا، اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہت آسانی سے بچت کی جا سکتی ہے۔ اب میں نے کہا ہے کہ ہمارے گھر میں ایک دیوار یا پردہ لگا دیں تاکہ ہم ایک چھوٹی سی جگہ کو مثال کے طور پر اسی 21 یا 22 ڈگری تک گرم کریں، باقی کو گرم نہ کریں؛ یہی کافی ہے۔ جب میں پانچ چھے میٹر کے کمرے میں بیٹھ سکتا ہوں، تو ایک بڑے کمرے کو میرے لیے گرم اور ٹھنڈا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ رہبر انقلاب کی تجویز بھی یہی ہے، خداوند بھی فرماتا ہے کہ اگر تم مسلمان ہو تو فضول خرچی نہ کرو۔ اب میں اپنے دفتر میں کتاب پڑھنا چاہتا ہوں، تو پوری عمارت کو روشن کر دیتے ہیں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا ہوں! کیوں؟ اب ہم نے ٹیبل لیمپ رکھا ہے، ٹیبل لیمپ سے ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہاں مجھے اور کوئی کام نہیں، تو باقی بلبس کو آف کر دیتے ہیں۔ پورے کمرے کو روشن کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ میں دو دستخط کرنا چاہتا ہوں؟ اگر ہم دس فیصد بچت کر سکیں، تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔ البتہ ہم اس سے کہیں زیادہ کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہاں ایک سوئمنگ پول بنایا گیا تھا، ہمیشہ گرم رہتا تھا۔ ہم نے کہا کہ یہاں کو گرم کیوں رکھا ہوا ہے۔ طے یہ تھا کہ کسی دن میں وہاں جا کر سوئمنگ کروں گا۔ میں نے کہا کہ اسے ختم کر دیں۔ اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ جب بھی مجھے سوئمنگ پول جانا ہوگا، میں ایک عمومی سوئمنگ پول چلا جاؤں گا، اس کی ضرورت نہیں کہ ایک مخصوص سوئمنگ پول چوبیس گھنٹے رکھا جائے کہ کسی دن میں اس میں تیراکی کروں گا۔
سوال: کیا آپ اپنے اوپر زیادہ سختی نہیں کرتے؟
جواب: نہیں، ہم انہی سختیوں کے ساتھ پلے بڑھے ہیں۔ اب بھی ہمارے پاس اپنی توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ میرے خیال میں، ہم امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ ایک مکمل جنگ میں ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک اپنے پیروں پر کھڑا رہے۔ یہ جنگ عراق کے ساتھ جنگ سے بھی بدتر ہے، اگر اچھی طرح سمجھا جائے، تو یہ جنگ اس جنگ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے۔ عراق کے ساتھ جنگ میں، صورت حال واضح تھی، وہ میزائل مارتا تھا، مجھے بھی معلوم تھا کہ کہاں مارنا ہے۔ یہاں اب ہر لحاظ سے ہماری گھیرا بندی کر رہے ہیں، ہمیں مشکلات اور تنگی میں ڈال رہے ہیں، مسائل پیدا کر رہے ہیں ــ معاشی، ثقافتی، سیاسی اور سیکورٹی کے لحاظ سے اور معاشرے کی توقعات بڑھا رہے ہیں، ایک طرف تو ہماری فروخت، ہمارے لین دین، ہماری تجارت کو روک رہے ہیں، دوسری طرف معاشرے میں توقعات بڑھ گئی ہیں! بنابریں ہم سب کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ مدد کرنی چاہیے اور ملک کو بہتر سے بہتر بنانا چاہیے۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! ایسا لگتا ہے کہ دشمن نے بارہ روزہ جنگ میں ناکامی اور شکست کے بعد اپنا رویہ اور پالیسی بدل دی ہے اور وہ ایک طرح کے نفسیاتی اور میڈیا آپریشن کی طرف مائل ہوا ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ ایران مجموعی طور پر اور حکومت خاص طور پر کمزور ہے اور ہمارے سامنے ہتھیار ڈالنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ صدر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کا اس میڈیا لائن کے بارے میں کیا جواب ہے؟
جواب: انھیں اسی خام خیالی میں رہنے دیجیے۔ انھوں نے اسی خیال کے ساتھ حملہ کیا لیکن داخلی اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوا۔ اب رہبر انقلاب جو کام کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے تمام فورسز ہم آہنگ ہو رہی ہیں اور اگر یہ ہم آہنگی اور ہمدلی پیدا ہو جائے تو کوئی بھی طاقت ایک متحد اور ہمدل قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ میری جو کوشش ہے ــ کسی بھی فوجی طاقت سے زیادہ اہم ــ داخلی یکجہتی اور اتحاد کا استحکام اور اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مسائل کو حل کرنا ہے۔ ہم نے کیوں کہا کہ کاموں کو محلے کی سطح کا بنائیں، مسجد کی سطح کا بنائیں اور عوام کو شامل کریں؟ عوام کو پالیسی سازی میں شریک ہونا چاہیے۔ ہمیں عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا چاہیے۔ ہم نے جنگ کو کیسے کنٹرول کیا؟ کیا حکومت کے پاس پیسہ تھا؟ اس وقت بھی امریکا اور عرب ممالک عراق کی مدد کر رہے تھے، صدام کی مدد کر رہے تھے، کیا وہ ہماری ایک انچ زمین بھی لے سکے؟ تمام طاقتیں ان کی مدد کر رہی تھیں۔ عوام ہی تھے جو یہ کام کر رہے تھے۔ ہم وہی عوام اور وہی منتظمین چاہتے ہیں، یعنی ایسے عوام اور منتظمین جو جانیں کہ ملک ان کا اپنا ہے، خطہ ان کا اپنا ہے اور پورے دل و جان سے کام کرکے وہ اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
ہم اپنے مسائل حل کر رہے ہیں، جس چیز سے میں فکرمند ہوں اور بارہا اس کا ذکر کر چکا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ ہم اختلافات کو ایک طرف رکھ سکیں۔ وہ اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ اختلافات ہم پر حاوی نہ ہو جائیں۔ اگر اختلاف ہے بھی تو بیٹھ کر بند کمرے میں آپس میں لڑیں لیکن جب باہر نکلیں تو نظام سے ایک ہی آواز نکلے اور وہ آواز اسی سمت اور راستے کی حامل جو رہبر انقلاب بتاتے ہیں۔ ممکن ہے میرے دل میں کچھ اور ہو لیکن جب راستہ واضح ہے تو سب کو اسی راستے پر چلنا چاہیے۔ اگر ہم سب ساتھ ہوں تو ان مشکلات پر قابو پا لیں گے، وہ جو بھی کرنا چاہیں کریں۔ اگر ہم ملک میں عدل اور انصاف نافذ کر سکیں اور عوام کو فیصلہ سازی اور پالیسیوں میں شامل کر سکیں اور عوام دیکھیں کہ ہم کن مشکلات سے دوچار ہیں، تو وہ خود ہی مسائل حل کرنے میں مدد کریں گے۔
سوال: موجودہ صورتحال میں، معاشی دباؤ شدید ہے اور ملک بھی جنگی حالت میں ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اسے سمجھتی ہے۔ صدر مملکت عوام کی معاشی حالت کو کس حد تک محسوس کرتے ہیں اور اس سے آگاہ ہیں؟
جواب: ہم عوام کے معاشی مسائل کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں۔ ہم تیل تقریباً 75 ڈالر میں بیچتے تھے، اب 50 ڈالر میں بیچتے ہیں، یعنی 25 ڈالر کم میں بیچ رہے ہیں۔ ایک طرف تو دباؤ کی وجہ سے ہماری آمدنی کم ہوئی، دوسری طرف جنگ کی صورت حال رہی اور ہماری خدمات اور پیداوار کچھ کم ہوئی۔ ان سب کے باوجود طے ہوا ہے کہ عید نوروز تک تقریباً ڈھائی ارب ڈالر رقم تبدیل کی جائے اور ضروری اشیاء کے کوپن جہاں تک ممکن ہو سکے کمزور طبقوں کو دیے جائیں۔ یہی پیٹرول کے پیسے، پانچ ہزار تومان کوئی بڑی رقم نہیں ہے لیکن طے ہوا ہے کہ حکومت جو کچھ بھی اس رقم سے حاصل کرے، سب ضروری اشیاء کے کوپن یا عوام کی معیشت پر خرچ کرے۔ ہم نے اگلے سال کے لیے پارلیمنٹ سے بات کی ہے کہ ہر صورت میں عوام کی معیشت کو درست کریں۔ ہمیں پارلیمنٹ، اراکین پارلیمنٹ یہاں تک کہ پورے حکومتی ڈھانچے کے ساتھ ایک مشترکہ زبان اور نظر پر پہنچنا ہوگا، جہاں رقم نہیں دینی چاہیے نہ دیں، جہاں سبسڈی نہیں دینی چاہیے نہ دیں، جہاں دینی چاہیے وہاں آپسی اتفاق رائے سے دیں۔
اسی پیٹرول کے معاملے میں، کیا آپ کے خیال میں ہم ہر پیٹرول ٹینک پر کتنی سبسڈی دے رہے ہیں؟ اسی کوٹے کی بنیاد پر جو ہم دیتے ہیں، مہینے میں تقریباً اسی لاکھ تومان ہے اور یہ تب ہے جب وہ اپنی معینہ حد یعنی ساٹھ لیٹر اور سو لیٹر استعمال کریں، اگر وہ زیادہ استعمال کریں تو پھر یہ ہر ٹینک پر تقریباً دو کروڑ تومان تک پہنچ جائے گا۔ اب اگر دو ٹینک ہوں تو پھر دیکھیں کتنا ہو جاتا ہے۔ ہم کیوں اس طرح پیسہ خرچ کر رہے ہیں؟ ہم یہ سبسڈی سب کو کیوں نہیں دے رہے؟ جب ہم مداخلت کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کو اعتراض ہونے لگتا ہے کہ آپ کیوں مہنگا کر رہے ہیں۔ ہم مہنگا نہیں کر رہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ سب کو دیں۔ اگر مجھے ایک گاڑی کے ٹینک پر ستر لاکھ، ایک کروڑ یا بیس کروڑ تومان سبسڈی دینی ہے تو میں یہ سبھی کو دوں گا، ہر کسی کو اس کے حصے کے مطابق ادا کروں گا۔ ہمارے میڈیا کو اس کا دفاع کرنا چاہیے اور اس کا کلچر تیار کرنا چاہیے۔ ہم اپنی حکومت کے اخراجات کے لیے کوئی پیسہ نہیں لیں گے، سبسڈی میں سے کچھ کم نہیں کریں گے لیکن ہم یہ سبسڈی سب کو دینا چاہتے ہیں۔ میں جس کے گھر میں کئی گاڑیاں ہیں، اپنے استعمال کے حساب سے، ہر ٹینک پر اسی لاکھ، نوے لاکھ یا ایک کروڑ تومان سبسڈی لے رہا ہوں، جبکہ کچھ لوگوں کے پاس رات کا کھانا بھی نہیں ہے! کیوں؟
سوال: اعداد و شمار کے مطابق بھی شاید صرف پچاس ساٹھ فیصد لوگوں کے پاس ذاتی گاڑی ہے۔
جواب: جی ہاں، یہ بھی بحث کا مقام ہے اور بالکل واضح ہے۔ ہم پیسہ سب کو کیوں نہیں دیتے اور صرف ان کو دیتے ہیں جن کے پاس گاڑی ہے؟ یہ کلچر تیار ہونا چاہیے۔ ہم نے اگلے سال کے لیے اس سلسلے میں فیصلہ کیا ہے کہ عوام سے بھی بات کریں گے، اراکین پارلیمنٹ سے بھی اور حکومت سے بھی بات کریں گے تاکہ ایک مشترکہ نتیجے پر پہنچ سکیں۔ ہم حکومت کے لیے کوئی پیسہ نہیں چاہتے۔ یہ پیسہ ہم، سب کو دیں، ایسا نہ ہو کہ جس کے پاس کئی گاڑیاں ہیں، وہ ساری سبسڈی لے جائے۔ ہم نے اس سال تقریباً پچاس لاکھ ڈالر کا پیٹرول امپورٹ کیا، ہم نے ساٹھ ہزار تومان فی لیٹر کے حساب سے خریدا اور ڈیڑھ ہزار یا تین ہزار تومان میں بیچ رہے ہیں! کیوں؟ اسی وجہ سے ہم عوام کی معیشت کو بہتر نہیں بنا پاتے۔ یہ وہ چیز ہے جس میں سب کو تعاون کرنا ہوگا اور اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو یہ پیسہ سب کو دیں اور اگر ہم یہ پیسہ سب کو دے سکے تو پھر اگر کسی کے پاس پیسہ ہے تو وہ استعمال کرے، اگر پیسہ نہیں ہے تو اپنا حصہ استعمال کرے۔ اس کے لیے ہم آہنگی کی ضرورت ہے، بات چیت کی ضرورت ہے، عوام کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے، عوام کے اعتماد کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس سال جو مجموعی بجٹ پارلیمنٹ کو دیا ہے، اس میں دو فیصد اضافہ ہے، جبکہ پچھلے برسوں میں ہم بجٹ میں چالیس فیصد یا پچاس فیصد اضافہ کرتے تھے۔ ہم نے اپنے اخراجات کو کوشش کی، پارلیمنٹ سے بھی کہا کہ جتنا ممکن ہو، ہمارے اخراجات کم کریں، اضافی اخراجات کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: بتایا گیا ہے کہ آپ نے اگلے (ہجری شمسی) سال کا بجٹ بہت ٹائٹ بنایا ہے۔
جواب: ابھی بہت گنجائش ہے، ابھی بہت گنجائش ہے کہ ہم اپنے بہت سے اخراجات کو کم کر سکیں۔ ہم کیوں اضافی اخراجات کر رہے ہیں؟ افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت اور ہماری سروسز کی نوعیت اس سے کہیں بہتر ہو سکتی ہے اور یہ وہ کام ہے جس کے لیے تعاون، ہمدردی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ہم بہت سے کام چھوڑ سکتے ہیں۔ عوام کی معیشت ہمارے لیے بڑی ترجیح ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں موبائل کے لیے پیسے نہ دوں لیکن عوام کی معیشت کے لیے دینے ہی ہوں گے۔ ہم نے اب تک ڈیڑھ ارب دیے ہیں جس سے موبائل درآمد کیے گئے لیکن اس وقت ہم عوام کی معیشت اور ضرورت کی بنیادی اشیاء میں پھنسے ہوئے ہیں۔ البتہ ہم نے اس کے لیے ترجیحی زر مبادلہ نہیں دیا لیکن آخرکار زر مبادلہ تو دیا۔ مجھے زر مبادلہ سب سے پہلے عوام کی معیشت پر دینا چاہیے اور پھر اگر بچا تو باقی چیزوں پر دینا چاہیے۔ اور اگر زر مبادلہ اضافی نہ بچا، تو وہ خود برآمد کرے اور اپنی برآمدات کی بنیاد پر، اپنی خدمات بھی انہی برآمدات سے حاصل کرے۔
اس کے لیے سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، کلچر بنانے کی ضرورت ہے۔ بجلی بھی اسی طرح ہے، گیس بھی اسی طرح ہے اور یہ وہ چیز ہے جس میں ہمارے ریڈیو اور ٹی وی کے ادارے، ہمارے عزیز اراکین پارلیمنٹ، ہمارے عزیز علماء اور ہماری سیاسی جماعتوں کو مدد کرنی چاہیے کہ ہم اس ملک میں عدل و انصاف قائم کریں۔ تب کسی کو بھوک اور معیشت کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس پیسہ ہے لیکن ہم اسے غلط استعمال کر رہے ہیں، ہمیں اس کا صحیح مینجمنٹ کرنا ہوگا۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! کیا اس ہفتے یا پچھلے ہفتے آپ کی رہبر انقلاب کے ساتھ معاشی مسائل پر کوئی نشست ہوئی؟ آخری ملاقاتوں میں انھوں نے عوام کی معیشت اور معاشی مسائل کے سلسلے میں کیا خاص ہدایات اور نکات بیان کیے؟
جواب: ہم ہر ہفتے موقع نکال لیتے ہیں اور رہبر انقلاب کی خدمت میں حاضر ہو کر موجودہ رپورٹس اور پروگراموں کے بارے میں ان سے مشورہ کرتے ہیں۔ وہ ہمیں بھی اور عدلیہ و مقننہ کو اور دیگر اداروں کو تجاویز دیتے ہیں اور مسائل کچھ حد تک کنٹرول ہو جاتے ہیں۔ دیکھیے! رہبر انقلاب کی سب سے بڑی ترجیح عوام کی معیشت ہے، یعنی ان کی بھی سب سے اہم فکر عوام کی معیشت سے متعلق ہے۔ جو کام ہم کر رہے ہیں اور جو پروگرام بنا رہے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں اور ساتھ مل کر آگے بڑھیں، اگر یہ ہو جائے اور ہمارا میڈیا، ہماری پارلیمنٹ اور باقی ادارے ہم آہنگ ہو جائیں تو کم از کم اگلے سال کے لیے ہم ایسا کام کر سکتے ہیں کہ عوام معیشت کے معاملے میں مشکل میں نہ پڑیں اور ان کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہو، ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہم نے یہ مسئلہ ان کی خدمت میں پیش کیا، ان کا رد عمل مثبت تھا۔ ہم نے تقریباً بیس نکات پر مشتمل ایک پروگرام پیش کیا اور حکومت، پارلیمنٹ اور بعض دیگر اداروں کے مختلف اقتصادی گروپس آپس میں ہم آہنگ ہو گئے ہیں کہ ان بیس نکات پر عمل درآمد کریں۔ چونکہ وہ زر مبادلہ کی صورت حال، بنیادی سامان، افراط زر، مہنگائی اور ایسے ہی مسائل سے فکرمند تھے، ہم نے تقریباً سترہ اٹھارہ نکات مرتب کیے ہیں جن کے بارے میں ہمیں رپورٹ دینی چاہیے۔
یہ مشکلات جو ہمارے سامنے آئی ہیں، وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی ہیں، شہید رئیسی کے زمانے میں بھی پیدا نہیں ہوئیں، یہ ایک مسلسل عمل تھا، مسائل مسلسل بڑھتے جا رہے تھے، اب ہمیں اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اگر آپ ان کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک زخمی ہاتھ کی طرح اس پر ٹانکے لگانے ہوں گے، کبھی سرجری کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ تو ہمارے ماہرین، ہمارے سائنسدانوں، ہمارے غیر معمولی صلاحیت والے افراد، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں، سب کو مل کر اس نکتے پر متفق ہونا ہوگا کہ اگر ہم یہ مداخلت کر رہے ہیں تو یہ ہمارے معاشرے کے فائدے میں ہے، ہم اپنے عوام کے لیے مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہم یہاں اس لیے ہیں کہ عوام کے خادم بنیں، کم از کم میرے دل میں تو کوئی دوسری نیت نہیں ہے تاکہ ہم اپنے عوام کے مسائل حل کر سکیں۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! دشمن کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ہمارے بعض عوام فکرمند ہیں کہ شاید امریکی اور اسرائیلی دشمن پھر سے شرارت کرنا چاہے۔ صدر مملکت کا اس تشویش کے بارے میں کیا جواب ہے؟ البتہ ہم نے بارہ روزہ جنگ کے دوران دیکھا کہ عام سرکاری خدمات بھی متاثر نہیں ہوئیں اور پہلے سے طے شدہ ہم آہنگی، تعاون اور منصوبہ بندی کے ساتھ، معاشرہ اپنے معمول کے مطابق چلتا رہا۔
جواب: دیکھیے! ہماری عزیز فورسز پوری طاقت کے ساتھ اپنے کام کر رہی ہیں اور اب سازوسامان اور افرادی قوت کے لحاظ سے، ان تمام مشکلات کے باوجود جو ہمارے سامنے ہیں، وہ اس وقت سے زیادہ طاقتور ہیں جب دشمنوں نے حملہ کیا تھا۔ بنابریں اگر وہ حملہ کرنا چاہیں گے تو انھیں زیادہ ٹھوس جواب کا سامنا کرنا ہوگا لیکن میں پھر اسی بات پر واپس آتا ہوں کہ اگر ہم لوگ ایک ساتھ ہوں اور آپس میں اتحاد رکھیں تو وہ ہمارے ملک پر حملہ کرنے کی طرف سے بالکل مایوس ہو جائیں گے۔ ان کی امید یہ ہے، انھوں نے اپنے بیانوں میں بھی کہا ہی ہے ــ کہ اندر سے کوئی واقعہ ہونا چاہیے تاکہ وہ آ کر مداخلت شروع کر سکیں۔ یہ جو میں مسلسل کہہ رہا ہوں کہ اگر کوئی بحث ہے بھی تو بہتر ہے کہ ہم کمرے میں بیٹھ کر آپس میں لڑیں لیکن باہر ایک آواز ہو جائیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم میں اتحاد اور یکجہتی ہو تو عوام سمجھ جائيں گے کہ ہم واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے لیے کسی بھی جنس، قومیت اور عقیدے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں ملک کے ذمہ دار کی حیثیت سے ہر ایک کو انصاف کے ساتھ خدمات فراہم کرنے کا پابند ہوں۔ اگر ہم شیعہ ہیں، اگر ہم کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی کے پیروکار ہیں، تو حضرت علی نے اپنے بھائی عقیل کو جو بیت المال سے تھوڑی سی زیادہ مقدار مانگ رہے تھے کچھ نہیں دیا۔ ایمان سے بتائيے، اگر ہم یہ کام کرتے تو کیا عوام ہم سے ناخوش ہوتے؟ کچھ جگہوں پر ہم نے یہ نہیں کیا، عوام ہم سے ناخوش ہیں۔
اب اسے ثابت ہونا چاہیے۔ تھیوری اور بات کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا۔ مجھ سے کہتے ہیں آئيے بولیے۔ ہم تو عرصۂ دراز سے بول رہے ہیں۔ مجھے ثابت کرنا ہوگا کہ میں جنس، قومیت، نسل اور زبان کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھوں گا۔ یہ سب خدا، پیغمبر اور امام کے احکام ہیں، جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ اگر ہم اسلام، رسول خدا کے حکم اور امام کے حکم پر عمل کریں تو ہمارے معاشرے میں ایسا اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوگی کہ دوسرے رشک کریں گے کہ کاش ہم بھی ایسے ہوتے۔ ہمیں ایک دوسرے سے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے جو مناسب نہ ہوں۔ شیطان انسان کا دشمن ہے اور چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے سختی سے بولیں، نامناسب بات کریں تاکہ ہم آپس میں لڑیں۔
سوال: آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا۔ ہم آپ کے لیے اور آپ کی حکومت کے لیے کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔
جواب: ہم سب ایک ہیں اور سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ ہم خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چل سکیں اور وہ ماڈل ہم اپنی گفتار میں نہیں بلکہ کردار میں دکھا سکیں جسے رہبر انقلاب ایک مسلمان اور ایک اسلامی زندگي میں دکھانا چاہتے ہیں۔ ہم نے کافی گفتگو کی، خدا آپ کو کامیاب کرے، خدا حافظ