بسم اللہ الرحمن الرحیم

و الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی‌ القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.

آج کی نشست بہت عمدہ، شیریں اور اچھی تھی۔ بحمد اللہ ہمارے ملک کے اور برادر ممالک کے محترم قاریوں اور تلاوت کرنے والوں نے پروگرام پیش کیا اور ہم نے استفادہ کیا۔ ہمیں امید ہے کہ قرآن مجید سے نور و ہدایت کے حصول کی طرف میلان اور قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کی طرف جھکاؤ ہمارے عوام اور پورے عالم اسلام اور امت مسلمہ کے لوگوں میں بڑھتا جائے گا، ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

قرآن مجید سے نور و ہدایت کے حصول کے سلسلے میں اختصار سے کچھ عرض کروں۔ یہ قرآن جس کی آپ تلاوت کرتے ہیں، ہدایت کی کتاب ہے: اِنَّ ھٰذَا القُرآنَ یَھدی لِلَّتی‌ ھِیَ اَقوَم(2) ہم سبھی کو ہدایت کی ضرورت ہے۔ یہ ذکر کی کتاب ہے اور ذکر کے معنی ہیں غفلت کو زائل کرنا۔ ہم اکثر غفلت میں مبتلا ہیں، انسان اکثر وہ باتیں بھی بھول کر غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو انھیں یاد ہوتی ہیں۔ قرآن ذکر کی کتاب ہے جو غفلت کی ضد ہے اور غفلت کو زائل کرنے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا: وَ لَقَد یَسَّرنَا القُرآنَ لِلذِّکرِ فَھَل مِن مُدَّکِر(3) قرآن، انذار (ڈرانے) کی کتاب ہے: وَ اوحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا القُرآنُ لِاُنذِرَکُم بِہ(4) ہمیں ڈرائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں ان خطروں کا انتباہ دیا جا سکے جو انسانوں کو لاحق ہیں، خواہ اس دنیا میں یا بعد والی دنیا میں کہ جو حقیقی زندگی ہے۔ قرآن، انسانی آلام کے علاج کی کتاب ہے، چاہے بنی نوع انسان کے درد ہوں جیسے ان کے معنوی، روحانی اور فکری آلام، چاہے انسانی معاشروں کے درد جیسے جنگیں، مظالم، ناانصافیاں، قرآن مجید ان کا علاج ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ القُرآنِ ما ھُوَ شِفاءٌ وَ رَحمَۃٌ لِلمُؤمِنین(5) قرآن، حکمت کی کتاب ہے: یس * وَ القُرآنِ الحَکیم(6) حکمت یعنی زندگی کے حقائق کا بیان جن کا انسان ضرورت مند ہے۔ قرآن واضح کرنے، مبہم باتوں اور جہالتوں کو دور کرنے کی کتاب ہے۔ قرآن مجید میں بار بار تِلکَ آیاتُ الکِتابِ المُبین(7) دوہرایا گیا ہے۔ یہ مجید کتاب ہے، کریم کتاب ہے، نور کی کتاب ہے، برہان اور دلیل کی کتاب ہے، یہ قرآن ہے۔ یہ قرآن کی وہ صفات ہیں جو خود قرآن مجید میں ہیں، قرآن خود ہم سے اپنا تعارف کراتا ہے اور اپنی صفات بیان کرتا ہے۔

امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام کے کلام میں، جو قرآن مجید اور پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نمایاں شاگرد ہیں، نہج البلاغہ میں قرآن مجید کے سلسلے میں بلند آہنگ الفاظ موجود ہیں۔ ربیع القلوب، دلوں کی بہار ہے، جس طرح سے بہار میں دنیا زندہ ہو جاتی ہے، زمین زندہ ہو جاتی ہے، اسی طرح قرآن، دلوں کو زندہ کرتا ہے اور پژمردگی، افسردگی اور پسماندگی سے نجات دیتا ہے، ربیع القلوب (کے یہ معنی ہیں)۔ شفاء الصدور(8) فیہِ عِلمَ ما یَاتی؛ دَواءَ دَائِکُم‌ وَ نَظمَ ما بَینَکُم‌(9) قرآن مجید کے بارے میں یہ نہج البلاغہ کے الفاظ ہیں، یعنی انسان کی ضرورت کی کبھی نہ ختم ہونے والی تعلیمات، قرآن میں موجود ہیں، چاہے وہ انفرادی شکل میں انسان کی ضرورت کی تعلیمات ہوں یا انسانی معاشرے کی شکل میں انسان کی ضرورت کی تعلیمات ہوں۔ یہ جملہ جو ہم نے نہج البلاغہ سے پڑھا عِلمَ ما یَاتی اس کا مطلب ہے تمام انسانوں اور مستقبل کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والا۔ اس کرۂ ارض پر جس دور میں بھی انسان زندگی گزارے گا، قرآن اس کی ضرورتوں کو پورا کرے گا اور ان کی تکمیل کرے گا، عِلمَ ما یَاتی کا مطلب یہ ہے۔ قرآن، انسانی معاشروں کے آلام کا علاج ہے۔ وَ نَظمَ ما بَینَکُم، سماجی نظام، انسانی روابط، معاشرتی روابط یہ سب قرآن میں ہے۔ ہمیں قرآن کو سمجھنا چاہیے۔

افسوس کہ عالم اسلام میں کچھ ایسے افراد تھے اور اب بھی ہیں جو سوچتے ہیں اور انھوں نے مان لیا ہے کہ قرآن صرف دلوں کے لیے ہے، عبادت گاہوں کے لیے ہے اور انسانوں کو خدا سے دعا و مناجات اور اپنے ذاتی روابط کے لیے قرآن کی ضرورت ہے، وہ سماجوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے اسلام کو نہیں مانتے، سیاسی اسلام کو نہیں مانتے، سماجی نظام کی تعمیر کرنے والے اسلام کو نہیں مانتے۔ یہ اس چیز کے بالکل برخلاف ہے جو قرآن مجید اپنے بارے میں خود کہتا ہے اور اس چیز کے بھی برخلاف ہے جو امیر المومنین علیہ السلام قرآن مجید کے بارے میں کہتے ہیں۔

یہ سب قرآنی معارف اور قرآنی تعلیمات ہیں، ہم انھیں کس طرح حاصل کریں؟ قرآن سے انس کے ذریعے، قرآن میں غور و فکر کے ذریعے، ان لوگوں سے تمسک کے ذریعے جن کے گھر میں قرآن نازل ہوا ہے یعنی اہلبیت رسول علیہم الصلاۃ و السلام، ان چیزوں کے ذریعے ان تعلیمات کو حاصل کیا جا سکتا ہے، ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے اور زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ آپ کی تلاوت، اسلامی ممالک میں قرآن کے چاہنے والوں کے درمیان رائج یہ کام جو بحمد اللہ ہمارے ملک میں بھی اچھی طرح رائج ہو گیا ہے، قرآن سے انس کے لیے اور قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے ایک مؤثر قدم ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کی بڑی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ آپ کے مخاطَب کو قرآن کی آیتوں اور قرآن کے مفاہیم پر غور کرنے کی ترغیب دلاتی ہے، قرآنی تعلیمات کو اس کے لیے واضح کرتی ہے۔ البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ یہ تلاوت، اپنے آپ کو نہیں بلکہ قرآن کو دکھانے کی نیت سے کی جائے۔ میں یہ بات پہلے بھی اپنے عزیز قاریوں سے عرض کر چکا ہوں۔(10) تلاوت میں جو یہ مختلف طرح کے ہنر ہیں، اچھی آواز، اچھا لحن، تلاوت کے فنون، قطع و وصل، نشیب و فراز، یہ سب قرآنی تعلیمات کو سمجھانے کے لیے ہونے چاہیے۔ اسی طرح سے پڑھیے، اس طرح سے تلاوت کیجیے، اس طرح سے آیات کو قطع اور وصل کیجیے، اس طرح سے آیات یا ان کے الفاظ کو دوہرائیے کہ قرآن کے معارف دل میں اتر جائیں، ہمیں آج اس کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ عالم اسلام میں بہت سے لوگ قرآن مجید سے انس نہیں رکھتے۔ خداوند متعال سے رسول مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ شکوہ کہ وَ قالَ الرَّسولُ یا رَبِّ اِنَّ قَومِی اتَّخَذوا ھٰذَا القُرآنَ مَھجورًا(11) آج عالم اسلام کے بہت سارے علاقوں میں عملی طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

آج غزہ کا معاملہ، عالم اسلام کا بڑا مسئلہ ہے۔ کیا ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ممالک کے حکام اور اسلامی ممالک کے عہدیداران، غز کے بارے میں قرآن مجید کی تعلیم پر اور قرآنی معرفت کے حکم پر عمل کر رہے ہیں؟ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ لایَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الکافِرینَ اَولِیاءَ مِن دونِ المُؤمِنین(12) کیا غزہ کے بارے میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے؟ کیوں اسلامی ملکوں کے سربراہ، کافر، قاتل اور خبیث صیہونی حکومت سے اپنے رشتے توڑنے، اس کی مدد بند کرنے اور اس کی پشت پناہی ختم کرنے کا کھل کر اعلان نہیں کرتے؟ قرآن مجید فرماتا ہے کہ لاتَتَّخِذوا عَدُوّی وَ عَدُوَّکُم اَولِیاء(13) کیا آج دنیا میں اس آیت پر عمل ہو رہا ہے؟ قرآن کہتا ہے کہ اَشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَھُم(14) کیا عمل میں یہ شدت، خبیث صیہونی حکومت کے خلاف دکھائی جاتی ہے؟ آج عالم اسلام کے بڑے درد یہ ہیں۔ خداوند عالم سبھی مسلم اقوام سے بازپرس کرے گا کہ انھوں نے اپنی حکومتوں پر دباؤ کیوں نہیں ڈالا اور اسلامی حکومتوں سے بازپرس کرے گا کہ انھوں نے عمل کیوں نہیں کیا۔ اِنَّما یَنھاکُمُ اللہُ عَنِ الَّذینَ قاتَلوکُم فِی الدّینِ وَ اَخرَجوکُم مِن دِیارِکُم ... اَن تَوَلَّوھُم(15) یہ سب قرآنی تعلیمات ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جنھیں ہمیں تلاوتوں میں نمایاں کرنا چاہیے، جنھیں ایک دوسرے کو یاد دلاتے رہنا چاہیے، ان فرائض کو ایک دوسرے کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہیے، ہم ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں، تلاوت کی ہماری ان مجالس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے۔

البتہ اس بات کا ایک دوسرا رخ بھی ہے: غزہ میں اور فلسطین میں مزاحمتی فورسز قرآن پر عمل کر رہی ہیں۔ غزہ کے اندر مزاحمتی فورسز صیہونی دشمن کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ اُذِنَ لِلَّذینَ یُقاتَلونَ بِاَنَّھُم ظُلِموا وَ اِنَّ اللَہَ عَلیٰ‌ نَصرِھم لَقَدیر(16) ان شاء اللہ، خداوند متعال انھیں نصرت عطا کرے گا۔ یقینی طور پر آج عالم اسلام غزہ کے لیے سوگوار ہے۔ غزہ کے عوام پر ایسے لوگ ظلم کر رہے ہیں جنھیں انسانیت چھو کر بھی نہیں گزری ہے۔ یقیناْ سب سے بڑی ذمہ داری، ان مظلوم عوام کی حمایت، غزہ اور فلسطین میں مزاحمتی فورسز کی شجاعانہ اور فداکارانہ استقامت کی حمایت اور ان سبھی لوگوں کی حمایت ہے جو دنیا کے کسی بھی گوشے سے غزہ کے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ فلسطین کے لوگ مظلوم ہیں، صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے غیر مسلم آزاد منش انسان بھی آج غزہ کے مظلوم عوام کے لیے سوگوار ہیں لیکن یہی لوگ فلسطینی مزاحمت کو سراہتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں۔

ہم پرامید ہیں، اللہ کے لطف و کرم اور اس کی نصرت سے ہماری امید کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اسی آیت کریمہ میں اللہ نے فرمایا ہے: وَ اِنَّ اللَہَ عَلیٰ نَصرِھِم لَقَدیر، ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے: وَلَینْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ ینْصُرُہُ (17) یہ اللہ کی تاکید ہے۔ نصرت خدا ان شاء اللہ فلسطین کے عوام کے شامل حال ہوگی۔ خداوند عالم کے لطف و کرم سے عالم اسلام یقینی طور پر صیہونیت کے ناسور کے خاتمے کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرے گا۔ ہم اس دن کے منتظر ہیں، وہ دن ان شاء اللہ آئے گا اور یہ چیز ہم سب کی ذمہ داری کو خاص طور پر اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ذمہ داری کو زیادہ سنگین بنا دیتی ہے، سبھی کو کوشش کرنی چاہیے۔ اس وقت سب سے اہم کام یہ ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی پشت پناہی روک دی جائے اور غزہ کے عوام، فلسطین کے عوام اور فلسطین کی مزاحمتی فورسز کی ہر ممکن طریقے سے مدد اور پشتپناہی کی جائے۔ ہمیں امید ہے کہ خداوند عالم اس راہ میں ہم سب کو ان شاء اللہ کامیاب کرے گا۔

 و السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

  1. اس ملاقات کے آغاز میں، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے چالیسویں بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے اختتام پر ہوئی، کچھ قاریوں نے قرآن مجید کی کچھ آیتوں کی تلاوت کی اور اس کے بعد ایران کے وقف بورڈ کے سربراہ سید مہدی خاموشی نے ایک رپورٹ پیش کی۔
  2. سورۂ اسراء، آیت 9، یقیناً یہ قرآن اس راستہ کی طرف ہدایت و راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔
  3. سورۂ قمر، آیت 17، بےشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنا دیا ہے تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
  4. سورۂ انعام، آیت 19، اور یہ قرآن بذریعہ وحی میری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمھیں اور جس تک یہ پہنچے سب کو ڈراؤں۔
  5. سورۂ اسراء، آیت 82، اور ہم تنزیلِ قرآن کے سلسلے میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو اہلِ ایمان کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔
  6. سورۂ یس، آیات 1 اور 2، یاسین۔ قرآنِ حکیم کی قسم۔
  7. منجملہ سورۂ شعراء، آیت 2، یہ ایک واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
  8. نہج البلاغہ، خطبہ 110
  9. نہج البلاغہ، خطبہ 158،
  10. قرآن مجید سے انس کی محفل سے خطاب (3/4/2022)
  11. سورۂ فرقان، آیت 30، اور رسول(ص) کہیں گے اے میرے پروردگار! میری قوم (امت) نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔
  12. سورۂ آل عمران، آیت 28، (خبردار) اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست (اور سرپرست) نہ بنائیں۔
  13. سورۂ ممتحنہ، آیت 1، اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمن کو اپنا دوست نہ بناؤ۔
  14. سورۂ فتح، آیت 29، وہ کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان ہیں۔
  15. سورۂ ممتحنہ، آیت 9، اللہ تو صرف تمھیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا۔
  16. سورۂ حج، آیت 39، ان لوگوں کو (دفاعی جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس بناء پر کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔ اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
  17. سورۂ حج، آیت 40، جو کوئی اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔