ہم نے ان کی بدعنوانیوں کے بارے میں جو کچھ سنا تھا وہ ایک طرف اور اس بدنام اور فاسد جزیرے کا معاملہ ایک طرف! یہ چیزیں در حقیقت مغربی تمدن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ جو ہم مغربی تمدن، مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ یہ ہے۔ دو سو سال، تین سو سال کام کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے۔ یہ جزیرہ ایک نمونہ ہے، اس طرح کی باتیں بہت زیادہ ہیں۔ جس طرح سے یہ چیز آشکار نہیں تھی مگر سامنے آ ہی گئي، اسی طرح بہت سی دوسری چیزیں بھی ہیں اور وہ بھی سامنے آئيں گی۔
امام خامنہ ای
17 فروری 2026
دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران کی حکمت عملی، دفاعی ہے۔ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹیجی کو جامۂ عمل پہنانے کی خاطر اپنے دفاع کے لیے صرف دفاعی حکمت عملی استعمال کرے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو گزشتہ کچھ مہینوں میں ملک کے فوجی اور دفاعی حکام مختلف انداز میں بیان کر چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سینتالیس سال ہو گئے کہ امریکا، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر پایا، یہ اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں: تم بھی یہ کام نہیں کر پاؤ گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈیٹرنس والے ہتھیار ہونے چاہیے، اسی طرح پرامن ایٹمی صنعت نہیں ہونی چاہیے، تم سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اس کا تعلق ایرانی قوم سے ہے۔
امریکی دھمکی دیتے ہیں کہ ہم ایسا کر دیں گے، ہم ویسا کر دیں گے، آپ ایرانی عوام نے اس 22 بہمن (11 فروری) کو ان دھمکیوں کا جواب دے دیا، دکھا دیا کہ ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔
امریکی صدر بار بار کہتا ہے کہ میں نے ایران کی طرف جنگی بیڑا بھیج دیا ہے! ہاں ٹھیک ہے، بحری بیڑا ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک، وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے۔
امام خامنہ ای
17 فروری 2026
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 فروری 2026 کو صوبہ مشرقی آذربائیجان اور شہر تبریز کے عوام سے خطاب میں امریکہ سے مذاکرات، امریکیوں کی دھمکیوں سمیت متعدد موضوعات پر کلیدی نکات بیان کئے۔ یہ ملاقات تبریز کے عوام کے 29 بہمن (18 فروری 1978) کے قیام کی برسی کی مناسبت سے ہوئی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 12بہمن مطابق یکم فروری 2026 کو اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے جشن، عشرہ فجر کے آغاز کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب، امام خمینی کی قیادت، ملک کے تازہ حالات اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایران اور امریکا کا مسئلہ کیا ہے؟ یہ جو ٹکراؤ ہے، چالیس پینتالیس سال سے ایران اور امریکا کی دشمنی ہے، یہ مسئلہ کیا ہے۔ دو لفظوں میں اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ الفاظ یہ ہیں کہ امریکا، ایران کو نگلنا چاہتا ہے، ایران کی شجاع قوم اور اسلامی جمہوریہ اس میں رکاوٹ ہے۔
ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ فتنہ، بغاوت کی طرح تھا۔ یعنی دنیا میں بعض لوگوں نے اس فتنے کو جو رونما ہوا، فتنے سے تعبیر کیا۔ کہا کہ ایران میں ایک بغاوت ہوئی، جس کی سرکوبی کر دی گئي۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار 1 فروری 2026 کی صبح اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسیوں سالگرہ کے جشن شروع ہونے کی مناسب سے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
ہم جنگ شروع نہیں کریں گے۔ لیکن جو حملہ کرنا چاہتا ہو، تکلیف پہنچانا چاہتا ہو، اسے ایرانی قوم ایک زبردست مکّا رسید کرے گی۔ البتہ امریکی یہ بھی جان لیں کہ اگر اس بار انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ جنگ، ایک علاقائی جنگ ہوگی۔
اللہ کبھی بھی مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ... وہ کہ جن سے منافقوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے خلاف بڑا لشکر اکٹھا کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
حالیہ واقعات اور منظم دہشت گردانہ کارروائیوں نے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں سامنے آئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں امریکی حکومت کی روش کی حقیقی نوعیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں رائے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا حکومتیں بغیر کوئی قیمت چکائے ہوئے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟
انقلاب اسلامی کے آغاز سے لے کر آج تک، ایران پر امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ وہ اب بھی اس فکر میں ہیں کہ ایران کو دوبارہ اپنے فوجی، سیاسی اور معاشی تسلط میں لے آئیں۔ یہ معاملہ صرف موجودہ امریکی صدر تک محدود نہیں، بلکہ یہ امریکا کی پالیسی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 جنوری 2026 کو عید بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے انتہائی اہم خطاب میں بعثت کے انتہائی عمیق پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے ملک میں فتنہ و آشوب کے واقعات اور اس میں امریکی کردار کے بارے میں گفتگو کی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے عید بعثت نبوی کے موقع پر ملک کے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے سنیچر 17 جنوری 2026 کی صبح ملاقات کی۔
وجہ؟! تجربہ! مشہد کے بلوؤں یا انہی کے الفاظ میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے مظاہرین (تخریب کار دہشت گردوں) کے ہاتھ میں ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا یہی اظہار خیال۔ سڑک پر ہونے والے ایک بلوے کو کج فکر مشیروں نے، دہشت گردوں کے ذریعے شہر پر قبضے کا نام دے کر امریکی صدر کے سامنے پیش کر دیا۔
زبردست اور فولادی عزم سے مملو ان ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنا دیا جسے ملک کے اندر ان کے ایجنٹوں کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر حکومت ایران فلاں کام کرتی ہے تو میں آ کر بلوائیوں کی حمایت کروں گا۔ بلوائی اس پر خوش ہیں! حالانکہ اگر اس میں صلاحیت ہے تو اپنا ملک سنبھالے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر حکومت ایران فلاں کام کرتی ہے تو میں آ کر بلوائیوں کی حمایت کروں گا۔ بلوائی اس پر خوش ہیں! حالانکہ اگر اس میں صلاحیت ہے تو اپنا ملک سنبھالے۔
اس چالیس پینتالیس سال کے عرصے میں ان سے جو بھی ہو سکا، انھوں نے کیا، یعنی ایک ملک کے خلاف ایسا کوئي بھی ممکنہ معاندانہ کام نہیں تھا جو انھوں نے نہ کیا ہو لیکن شکست کھائی۔
وہ لاطینی امریکا میں ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں، انھیں شرم بھی نہیں آتی، پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں!
ہمارے دشمنوں نے ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبے بنائے، وہ آج بھی ایران کو نہیں جانتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں، اُس وقت غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے، امریکا آج بھی اپنی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شکست کھائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے جمعہ 9 جنوری 2026 کو قم کے عوام کے تاریخی قیام کی برسی کی مناسبت سے، جو 9 جنوری 1978 کو رونما ہوا تھا، قم سے آنے والے ہزاروں لوگوں سے خطاب میں اس قیام کے نتائج، اُس وقت کے ملک کے حالات، عوام کی معنوی طاقت، گزشتہ کچھ دنوں سے ملک میں جاری واقعات، ایرانی جوانوں کے کارناموں اور امریکا کے ماضی اور حال کے سیاہ کارناموں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ اس وقت جتنی طاقتور ہے، اس کا ماضی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
رہبر انقلاب کا خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے جمعہ 9 جنوری 2026 کی صبح قم کے عوام کے 9 جنوری 1978 کے تاریخی قیام کی برسی کے موقع پر حسینیۂ امام خمینی میں قم کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
وہ لوگ بھی جو کہتے تھے کہ ملک کے مسائل کا حل امریکا سے گفتگو ہے، انھوں نے بھی دیکھ لیا کہ کیا ہوا۔ امریکا سے مذاکرات کے درمیان، ایرانی حکومت، امریکا سے مذاکرات میں مصروف تھی، امریکی حکومت پردے کے پیچھے جنگ کا منصوبہ تیار کر رہی تھی۔
صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے KHAMENEI.IR سے ایک تفصیلی گفتگو کی جس میں انھوں نے ملک کے مختلف مسائل کے ساتھ ہی اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدر مملکت کے اس انٹرویو کے اہم حصے پیش کیے جا رہے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
بے شک ہم سب خدا کی طرف سے ہیں اور اسی کی جانب لوٹنے والے ہیں۔ (سورۂ بقرہ، آيت 156)
امام جمیل الامین(1) جو کبھی مرد انصاف(2) کہلاتے تھے، آخرکار ایسے شخص میں تبدیل ہو گئے جس نے انصاف کے لیے اپنی جان دے دی۔ آزادی کی راہ کا یہ مجاہد، یہ روحانی اور سامراج مخالف لیڈر، 23 سال امریکی جیلوں میں قید رہنے کے بعد خدا کی طرف لوٹ گیا۔ وہ ایک جنگی قیدی تھے، اس جنگ کے قیدی جو امریکا نے سیاہ فام امریکی برادری کے خلاف چھیڑی تھی۔
بارہ روزہ جنگ میں ایرانی قوم نے امریکا کو بھی دھول چٹائی اور صیہونیوں کو بھی شکست دی، اس میں کوئی شک نہیں۔ انھوں نے شیطنت کی، مار کھائی اور خالی ہاتھ لوٹ گئے۔ یہ حقیقی معنی میں شکست ہے۔
امریکی تیل اور زیر زمین ذخائر کی خاطر دنیا میں کہیں بھی جنگ کی آگ بھڑکانے کو تیار ہیں اور جنگ کی یہ آگ لاطینی امریکا تک پہنچ گئی ہے۔
امام خامنہ ای
27 نومبر 2025
ایک نظریے کے مطابق صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس برس تک منصوبہ بندی اور تیاری کی تھی۔ بیس سال سے منصوبہ بندی اس لیے کہ ایران میں جنگ چھیڑی جائے، عوام کو بھڑکایا جائے کہ وہ اسلامی نظام کے خلاف محاذ آرا ہو جائیں مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور وہ پوری طرح ناکام ہو گئی۔
امام خامنہ ای
27 نومبر 2025
امریکی تو اپنے دوستوں سے بھی غداری کرتے ہیں یعنی جو لوگ ان کے دوست ہیں، ان سے بھی غداری کرتے ہیں۔ تیل اور زیر زمین ذخائر کی خاطر وہ دنیا میں کہیں بھی جنگ کی آگ بھڑکانے کو تیار ہیں۔