ایران کے خلاف مغربی ممالک کی الزام تراشیوں کا ذکر کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مغربی ممالک کا دعوی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار کو حصول کے لئے کوشاں ہے اور وہ اپنی ان خام خیالیوں کی توجیہ پیش کرنے کے لئے مختلف وسائل اور طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں تاہم ایرانی قوم نے بارہا وضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے دینی اصولوں کی بنیاد پر جس کی وہ مکمل پاسداری کرتی ہے ایٹمی ہھتیار سے گریزاں ہے۔
آپ نے فرمایا کہ دفاعی میدان میں ایٹمی اسلحے کو کارآمد ہتھیار شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ کسی بھی حکومت کے لئے اس کا استعمال ممکن نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ استعمال کی صورت میں دوسرا فریق بھی ایسی ہی جوابی کاروائي کرے گا جس کا نتیجہ تباہی و بربادی اور موت کے قہر کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا، ایٹمی جنگ میں کوئي بھی فاتح نہیں ہوگا اور اس سے مغرب بھی بخوبی آگاہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حکومتوں کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لئے بہت سنگین مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے کوئي جواز نہیں ہے۔ آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ایرانی قوم جوہری توانائي، پر امن مقاصد کے لئےاستعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور دشمنوں کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود قوم اس راہ پر پورے عزم و ثبات کےساتھ رواں دواں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ پر امن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائي کے حق سے ایرانی قوم کی وابستگی، اس حق کے حصول پر اس کا اصرار اور دشمنوں کے دباؤ کا پامردی کےساتھ مقابلہ عالم اسلام میں زباں زد خاص و عام ہو گیا ہے اور نتیجتا عرب اور مسلم اقوام کے درمیان ایٹمی توانائی کا مطالبہ بھی عام ہو چکا ہے۔
آپ نے ایٹمی مسئلے میں ایران اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مغربی ممالک کے دوغلے معیاروں اور دوہرے روئے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی حکام اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یورپی عہدہ داران ایرانی قوم کی ایٹمی سرگرمیوں کی تو مخالفت کرتے ہیں لیکن انہی حکام کو ہم ایسے ممالک سے جوہری معاہدے کرتے دیکھ رہے ہیں جو سائنسی اور صنعتی لحاظ سے ایران سے بہت پیچھے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر قوم کے لئے ایٹمی توانائی کےحصول کو جائز سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس کے نتیجے میں ان پر اس قوم کا انحصار بڑھے تاہم اگر کوئي قوم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے سہارے اور ان کی جانب دست نیاز دراز کئے بغیر ایٹمی توانائي کے حصول کی کوشش کرے تو وہ اس قوم کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ جب سے ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، اس وقت سے ایران کے خلاف دشمنوں کی نفسیاتی جنگ مسلسل جاری ہے، آج بھی دشمن اسلامی انقلاب کے خلاف مختلف شکلوں میں سرد جنگ کر رہے ہیں، وہ ایرانی قوم پر یہ خیال مسلط کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے تسلط اور بالادستی کو قبول کئے بغیر کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتی اسی طرح وہ ایرانی قوم کا عظیم کارناموں کے منکر ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہمارے عزیز جوانوں اور عظیم ملت ایران کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اپنی ذاتی صلاحیتوں اور توانائيوں کو بروی کار لاتے ہوئے یہ علمی مرتبہ حاصل کیا ہے، ہمارے جوانوں نے دوسروں کی تقلید نہیں کی بلکہ انحصار کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
قائد انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسرائیل کو جس چیز سے تقویت پہنچ رہی ہے وہ مسلم ممالک کے بعض حکام کے موقف اور مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ان حکام کا گریز اور اسی طرح غاصب حکومت کے لئے واشنگٹن کی مسلسل حمایت ہے۔
آپ نے فرمایا کہ امام خمینی (رہ) کے وضع کردہ اسلامی انقلاب کے اصولوں منجملہ فلسطینیوں کی حمایت کے اثرات قوموں میں صاف نظر آنے لگے ہیں اور آج ایرانی قوم کی مانند دیگر قوموں کے دل بھی فلسطینی قوم کے لئے دھڑک رہے ہیں جبکہ صیہونی حکومت کو علاقے میں جعلی حکومت کے عنوان سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں اپنی قوموں کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسرائيل کے پاس اپنے پیروں پر سنبھلنے کی طاقت نہیں ہے، صرف دو عامل ایسے ہیں جن کی وجہ سے اس حکومت کو کھڑے ہونے کی طاقت مل گئی ہے، ایک تو امریکہ کی لا محدود حمایت اور دوسرے فلسطینی قوم کے لئے عرب اور مسلم حکومتوں کی حمایت کا فقدان ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سی اسلامی حکومتیں مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں کما حقہ پوری نہیں کر رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ حکومتیں اپنی قوموں کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت شروع کر دیں تو علاقے کے حالات یکسر بدل جائیں گے اور یہی تمام قوموں کی دلی خواہش بھی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کی بقا میں امام خمینی (رہ) کی بے مثال شخصیت کے بنیادی رول کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ایران کا اسلامی انقلاب، دین اسلام کی مانند گوناگوں سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی، روحانی اور دیگر پہلوؤں پر مشتمل اور انسانی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے اور ایران کے اسلامی انقلاب کی بقا اور علاقے اور دنیا میں اس کے اثرات کے پھیلنے کا یہی راز ہے۔
آپ نے امریکی حکام کے عقل و دانش کے دائرے سے خارج بیانات اور روئے کو نفسیاتی مریضوں کی رفتار و گفتار سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ امریکی صدر اور ان کا ہمنوا گروہ کبھی تو دھمکیاں دیتا ہے، کبھی قتل کے احکامات صادر کرتا ہے، کبھی الزام تراشیاں کرتا ہے، کبھی بے بسی کے عالم میں مدد کی درخواست کرتاہے اور کبھی کسی قوم کی سلامتی و استحکام کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ بہکے ہوئے بیانات اور غیر متوازن حرکتیں در حقیقت دنیا کے مختلف علاقتوں منجملہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کے بر سر اقتدار گروہ کی شکستوں اور ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ایران کا اسلامی انقلاب خود امام خمینی (رہ) کے بقول ایران کی موجودہ اور آئندہ نسلوں اور تمام طبقات سے متعلق ہے اور یہ عظیم قوم امام خمینی (رہ) کے رہنما وصیت نامے کے مطابق انقلاب کے نعروں، موقفوں، قدروں اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے، پیش رفت و ترقی خلاقیت و ابتکار عمل اور سرفرازی و سربلندی کے زیر سایہ اس الہی امانت(اسلامی انقلاب) کی حفاظت اور پاسبانی کرے گی۔
قائد انقلاب اسلامی نے امام خمینی (رہ) کی رحلت کے انیس برس بعد بھی آپ کی ذات سے ایرانی قوم بالخصوص نوجوانوں کی عقیدت اور عشق و محبت میں شدت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عقیدت و محبت ایرانی قوم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں بالخصوص اسلامی ممالک میں بسنے والے عوام میں بھی یہی جذبات پائے جاتے ہیں جس کے دو بنیادی عامل ہیں، ایک تو امام خمینی (رہ) کی عظمت اور دوسرے اسلامی انقلاب کی عظمت ہے۔
آپ نے امام خمینی (رہ) کے رہنما وصیت نامے کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں استقامت کو ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ تسلط پسند طاقتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینے سے وہ اور بھی گستاخ ہو جاتی ہیں لہذا اگر کوئي قوم سامراجی طاقتوں اور امریکہ کے شر اور زور زبردستی سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ اپنی تمام توانائيوں کو مجتمع کرکے ان کے سامنے ڈٹ جائے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسی طرح امام خمینی (رہ) کے موقف کی پیروی کو ملک کی سیاسی جماعتوں اور حلقوں کے لئے لازمی قرار دیا اور فرمایا کہ امام خمینی (رہ) کے موقف اور روش کی پیروی پر ملک کے سیاسی حقلوں کی تاکید خوش آئند اور اچھا شگون ہے تاہم امام (خمینی رہ) کی روش کی اہم ترین خصوصیت سامراجیوں کے مقابلے میں پوری قوت کے ساتھ مزاحمت ہے۔ بنابریں جملہ سیاسی حقلوں، برجستہ شخصیات اور عوام کو جو امام خمینی (رہ) کے افکار و نظریات کے تئيں وفادار ہیں چاہئے کہ دنیا کی سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی استقامت اور مزاحمت کی حفاظت اور تقویت کریں۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امام خمینی (رہ) نے کبھی بھی سامراجیوں کے لحاظ میں مظلوموں کی حمایت سے ہاتھ نہیں کھینچا، فرمایا کہ مظلوم قوموں بالخصوص ملت فلسطین کے حقوق کی کھلی حمایت امام خمینی (رہ) کے نہج اور روش کی ترجیحات میں شامل ہے اور خوشی کا مقام ہے کہ ایرانی قوم اور حکام نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران اسی روش پر عمل کیا اور جس میدان میں بھی مقابلہ ہوا سامراجی طاقتوں پر غلبہ حاصلہ کیا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پے در پے شکستوں کے باوجود دشمن الزام تراشی سمیت اپنے نفسیاتی اور سیاسی حربے استعمال کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آج امریکی اور صیہونی، جن کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بد ترین ریکارڈ رہا ہے، اسلامی جمہوری ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بہتان باندھ رہے ہیں، البتہ ان بہتانوں پر کوئی کان دھرنے اور دنیا میں کوئی بھی ان پر یقین کرنے والا نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایرانی قوم کی عزت و سربلندی، پایدار امن و استحکام، پیش رفت و ترقی اور روحانی و اخلاقی عظمت کی ضمانت، امام خمینی (رہ) کے رہنما وصیتنامے پر حکام اور عوام کا عمل ہے اور یہ حقیقت کبھی بھی فراموش نہیں کی جانی چاہئے۔