جمہوریہ ایران کی تاریخ میں سات تیر تیرہ سو ساٹھ ہجری شمسی مطابق اٹھائيس جون سن انیس سو اکاسی عیسوی کو رونما ہونے والا واقعہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ اس دن تہران میں شام ساڑھے آٹھ بجے جہموری اسلامی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ تہران کے علاقے سرچشمہ میں واقع پارٹی کے مرکزی دفتر میں ہونے والے اس اجلاس میں افراط زر اور صدارتی انتخابات جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔ حسب معمول تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا اور عدلیہ کے سربراہ آيت اللہ بہشتی نے اپنی تقریر شروع ہی کی تھی کہ اچانک اجلاس ہال میں بڑا خوفناک دھماکہ ہوا جس سے عمارت کے پرخچے اڑ گئے۔ دھماکے میں آیت اللہ شہید بہشتی اپنے بہتر ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ اس دن کو ایران میں یوم عدلیہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی نے آج عدلیہ کے حکام اور اہلکاروں نیز شہدای ہفتم تیر کے بازماندگان کےاجتماع سے خطاب کیا، تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔