قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 4 شہریور سنہ 1373 ہجری شمسی مطابق 26 اگست سنہ 1994 عیسوی کو تہران میں منعقدہ وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں سامراجی طاقتوں کے غلط اندازوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سامراجی طاقتیں غلطی پر ہیں۔ اگر سمجھتی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ہر حکومت کی طرح، انہیں معمولی حربوں سے، تشہیراتی محاصرے، سیاسی دباؤ، اقتصادی ناکہ بندی اور ایسے ہی دوسرے اقدامات سے جھکا لیں گی تو یہ ان کی غلطی ہے۔ یہاں اعتقاد کا مسئلہ ہے۔ دین کی پابندی کا مسئلہ ہے۔ عوام کے لئے یہ الہی فریضہ ہے کہ اس حکومت کا جو پرچمدار اسلام ہے، دفاع کریں۔ دنیا کے دوسرے مسلمانوں کا فریضہ بھی یہی ہے۔ بنابریں انقلاب کے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کی جتنی ہو سکی مخالفت کی، دشمنی کی، مختلف سیاسی اور فوجی مہم تیار کی۔ ہمارے عظیم امام (خمینی ) رضوان اللہ تعالی علیہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دشمنی ہم سے نہیں بلکہ اسلام اور قران سے ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر تمام مسلمین عالم کو توجہ دینی چاہئے۔ آج جو لوگ تشہیرات کے میدان میں، سیاسی لڑائی میں، مختلف قسم کی اقتصادی سرگرمیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران سے بر سر پیکار ہیں، وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اسلام کی دشمنی کو ظاہر اور آشکار کر دیا ہے۔ ان لوگوں کی کوششیں پوشیدہ نہیں ہیں۔