قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران کی مرکزی نماز جمعہ میں باایمان و انقلابی عوام کے عظیم الشان اجتماع میں اس سال اسلامی انقلاب کی سالگرہ کو ایک الگ ہی جوش و جذبے سے سرشار قرار دیا اور اسلامی انقلاب کے نتیجے میں انجام پانے والی بنیادی اور گہری تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم کی پائيداری کی برکت سے یہ تبدیلیاں ان پورے بتیس برسوں کے دوران جاری رہیں اور ایرانی عوام برسوں کی جد و جہد کے بعد اب اپنی مظلومانہ لیکن مقتدرانہ آواز کی بازگشت کا، شمالی افریقہ کے تازہ واقعات اور خاص طور پر مصر اور تیونس کے عوام میں اسلامی بیداری کی شکل میں، مشاہدہ کر رہے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں تہران یونیورسٹی میں اور تمام ملحقہ سڑکوں پر صف نماز میں بیٹھے بے شمار نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے حالات اور دنیا کے سیاسی امور پر اس انقلاب کے اثرات کا تجزیہ کیا اور فرمایا کہ دنیا کی استبدادی اور استکباری طاقتوں نے مشرق وسطی کے انتہائی اہم اور سوق الجیشی اہمیت کے حامل علاقے میں اپنے مفادات کے حصول کے لئے بڑی باریک بینی سے منصوبے تیار کئے تھے اور برسوں انہوں نے اس منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد بھی کیا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ان کے سارے منصوبوں کو درہم برہم کر دیا۔